مظاہرین کوٹھنڈاپانی پیش کرینگے،فیصل راٹھور

اسلام آباد (کشمیر ایکسپریس نیوز )آزادجموں و کشمیر کے وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے کہا ہے کہ ہماری پوری کوشش ہے کہ ایکشن کمیٹی اس بار سڑکوں پر نہ آئے ۔ہم۔چاہتے ہیں کہ مذاکرات کے ذریعے اور افہام و تفہیم سے راستہ نکال لیا جائے .اگر احتجاج ہوتا بھی ہے تو مظاہرین کو ٹھنڈا پانی پیش کریں گے انہیں طاقت اور فورس کے ذریعے نہیں روکیں گے ۔نشستوں پر کمی پر بھی بات کی گئی ہے ہم نے مذاکرات کا دروازے بند نہیں کئے ۔ہمارے لئے ریاست کا مفاد سب سے زیادہ ضروری ہے ۔مہاجرین کی قربانیاں ہیں ان کا ایک رول ہے انہیں کسی بھی حوالے سے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔ان خیالات کا اظہار وزیراعظم نے معروف اینکر طلعت حسین کے پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوے کیا ۔انہوں نے کہا کہ جب پچھلی بار اُن کی طرف سے کال دی گئی تھی، تو اس وقت اُن کے کچھ ایسے مطالبات تھے جس کی بنیاد پر انہوں نے ہڑتال کا فیصلہ کیا لیکن اس کے بعد جو اُن سے معاہدہ ہوا، ہم نے یہ کوشش کی کہ حکومت میں آنے کے بعد جتنے بھی معاملات تھے، ہم نے اس کو کرنے میں ایک لمحہ بھی تاخیر نہیں کی اور اللہ نے کیا کہ کافی حد تک وہ معاملات حل بھی ہوئے اور ان کے ساتھ ایک رابطہ بھی رہا۔ لیکن اس میں ایک ایسی شق تھی جس میں ایک نکات مہاجرین کی نشستوں سے متعلقہ تھا، جس میں ایک کمیٹی بنی تھی جو اُن کے ساتھ بات چیت کر رہی تھی اس معاملے کے حل کے لیے، وہ ایک ایسی بیسک بنیاد بنی دوبارہ سے اس تحریک کو جو انہوں نے کال دی ہوئی تھی، لیکن ہماری طرف سے یہ پوری کوشش ہے، ابھی حال ہی میں وفاق کی طرف سے بھی ایک کمیٹی آئی تھی جس میں مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت بھی تھی، میں خود بھی اس میں موجود تھا۔ بڑے اچھے ماحول میں ہماری بات چیت بھی رہی، اُن کے ساتھ تمام ایشوز کو ڈسکس بھی کیا گیا، حکومت کی طرف سے جتنے معاملات تھے جو جو حل کیے گئے، ایک ایک کر کے وہ بھی بتائے گئے، انہوں نے کہا کہ ہم نے اس وقت کہا تھا کہ ہمیں تھوڑا سا وقت دے دیں چونکہ جو ڈیٹ انہوں نے دی تھی 9 تاریخ کی، جو نشستوں کا فیصلہ ہے ، وہ اکیلے ایک جماعت کے بس کی بات نہیں، اس میں ایک پولیٹیکل اتفاق رائے چاہیے اور اس کے لیے ہم چاہتے تھے کہ اے پی سی بلائیں، تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر اس پہ بات کریں اور پھر ایک کنسینسس بنانے کے بعد ہم اس میں آگے بڑھیں۔ لیکن اُن کی طرف سے ہمیں وقت نہیں دیا گیا بلکہ ہم نے آخری حد تک کوشش کی کہ چونکہ الیکشن کا شیڈول بھی اناؤنس ہونا ہے تو ہمیں 8، 10 دن مزید مل جائیں لیکن اُن کی طرف سے یہ بات تھی کہ ہم ایک دن بھی زیادہ نہیں دیں گے لیکن ہم آپ کے ساتھ 7 تاریخ تک مذاکرات کے دروازے کھلے رکھیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے پرائم منسٹر پاکستان کے ساتھ اجلاس ہوا اور اس معاملے پر بات چیت کی گئی، تو کوشش تو پوری ہے جی، ہم کبھی نہیں چاہتے کہ ریاست کسی امتحان میں جائے، یہ لوگ ہمارے اپنے ہیں لیکن تحریک چلانا، اپنے معاملات کو عوام میں لے کر جانا یقیناً اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اُنہیں بات سننی بھی چاہیے، ہمیں سمجھنی بھی چاہیے اور ہم سمجھ بھی رہے ہیں ۔ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ فیصلے سڑکوں کے بجائے ایوان کے اندر ہوں تو وہ بہتر ہے اور میرے خیال میں اس میں بہت سارے ایسے لوگ ہیں ایکشن کمیٹی کے اندر جو چاہتے ہیں کہ بات چیت کے ذریعے راستہ نکل آئے۔ ہم آخری دم تک یہ کوشش کریں گے کہ کسی بھی طرح سے بیٹھ کر، بات چیت کر کے مسئلے کا حل نکالا جا سکے۔ دیکھیے مہاجرین کی سیٹس کے حوالے سے ماضی کے اندر بھی کچھ لوگوں کے اعتراضات رہے ہیں چونکہ یہ سیٹس ڈائریکٹلی 9 پنجاب میں ہیں،ایک کے پی کے میں ہے، ایک ایک سندھ اور بلوچستان میں، یہ 12 سیٹس ہیں ہماری، اور ان کے بارے میں اکثر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ یہ چونکہ وفاقی حکومت کے بجائے صوبائی حکومتوں کے زیرِ اثر انتخابات ہوتے ہیں، مینیپولیٹ ہو جاتی ہیں لیکن یہ ایک الگ ڈیبیٹ ہے جس میں یقیناً ہمیں اعتراضات بھی رہے ہیں، ساری سیاسی جماعتیں پیپلز پارٹی، ن لیگ خود بھی اس پہ اعتراض کرتی رہی ہے لیکن اس وقت ہمارے لیے سب سے بڑی اہمیت ریاست کے معاملات اور ان مسائل کی ہے جو کہ عوام کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں لیکن چونکہ ایک وقت میں سیاسی جماعتیں اس پہ بات کرتی رہی ہیں، کچھ فنڈز کے حوالے سے لوگوں کے تحفظات رہے ہیں، کچھ لوگوں کے ذہنوں میں یہ ہے کہ حکومتیں جب تبدیل ہوتی ہیں تو ان سیٹس کا رول ہوتا ہے لیکن ان تمام چیزوں کے باوجود مہاجرین کا، ان کی قربانیاں ہیں، ان کا ایک رول ہے، انہیں کسی بھی حوالے سے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور اگر اس میں کسی بھی سیاسی جماعت چاہے وہ پیپلز پارٹی ہو، چاہے وہ ن لیگ ہو، ان کی کوئی سیاسی وابستگی یا سیاسی مفادات ہیں تو وہ ایک طرف ہیں۔ اس وقت میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہمارے لیے ریاست کا مفاد سب سے زیادہ ضروری ہے، انہوں نے کہا کہ سیٹس کے حوالے سے اس میں کوئی ہماری طرف سے ایسی پابندی نہیں ہے، اس پہ ڈسکشن ہوئی کہ کچھ سیٹس کو کم بھی کیا جا سکتا ہے، اس میں ووٹوں کے تناسب سے چونکہ ریاست کے اندر جو اس وقت ووٹ رجسٹرڈ ہیں وہ زیادہ ہیں جبکہ مہاجرین کے حلقوں میں جموں و ویلی کے تھوڑے ووٹ ہیں، تو اس بنیاد پہ سیٹوں پہ کمی پہ بھی بات کی گئی ہے، تو ہم نے اس میں کوئی دروازہ بند نہیں ابھی تک کیا۔ ہم چاہتے ہیں کہ نیگوشیشن کے ساتھ اس پہ کوئی افہام و تفہیم سے راستہ نکال لیا جائے۔ایک۔سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ ہم تو کوشش سب سے پہلے تو آخری حد تک یہ کریں گے کہ وہ لوگ سڑکوں پہ نہ آئیں اور ایسا معاملہ نہ بنے مگر اگر خدانخواستہ ایسا موقع آ گیا، تو کوشش کریں گے کہ پُرامن رہیں اور کم سے کم ہم طاقت کی بنیاد پہ، فورس کی بنیاد پہ انہیں روکنے کی کوشش نہیں کریں گے۔ کوشش کریں گے انہیں ٹھنڈا پانی پلائیں، ان کا خیال رکھا جائے، کم سے کم ریاست کے اندر کسی بھی ایسی سچویشن کے ہم متحمل نہیں ہو سکتے کہ ہم طاقت کا استعمال کر کے انہیں روکیں لیکن یہ چیز میں سمجھتا ہوں ریاست کے لیے بہتر نہیں چونکہ دوسری طرف ہندوستان جو ہمارا دشمن ہے، وہ اس چیز سے بے پناہ فائدہ اٹھاتا ہے اور وہ کسی بھی عوامی حقوق کی تحریک کو پاکستان کے ساتھ موازنہ کرتے ہوئے اس کے ساتھ اس معاملات کو دوسری طرف لے جاتا ہے اور میں نہیں سمجھتا کہ اس موقع پہ ہم اس چیز کے متحمل ہو سکتے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.