گزشتہ دو ماہ میں ہونیوالی تقرریوں اورجاری فنڈزکی تفصیلات طلب

کوٹلی (کشمیر ایکسپریس نیوز) وزیر سیاحت، صنعت و معدنی وسائل عبدالرحمن آرائیں نے کہا ہے کہ حکومت کا مقصد محض اعلانات نہیں بلکہ عوام کو عملی ریلیف فراہم کرنا اور ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات ان کی دہلیز تک پہنچانا ہے۔ قائد مسلم لیگ (ن) محمد نواز شریف کے ترقیاتی وژن کے مطابق گڈ گورننس، میرٹ، شفافیت، ادارہ جاتی اصلاحات اور عوامی خدمت کو حکومتی ترجیحات کا مرکز بنایا جائے گا ۔ سرکاری افسران عوامی مسائل کے حل میں رکاوٹ بننے کے بجائے ان کے حل کا ذریعہ بنیں اور جو مسئلہ دنوں میں حل ہوسکتا ہو، اس کے لیے مہینوں انتظار نہ کرایا جائے۔وہ ڈپٹی کمشنر آفس کوٹلی میں ضلعی انتظامیہ اور سرکاری محکموں کے ضلعی سربراہان کے تعارفی اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ اجلاس میں وزیر مال و بحالیات راجہ محمد ریاست خان نے خصوصی شرکت کی، جبکہ ڈپٹی کمشنر محمد عثمان صارم، ایس پی چوہدری عدیل احمد لنگڑیال، میئر چوہدری محمد تاج، ضلعی انتظامیہ، پولیس، محکمہ مال، بلدیاتی اداروں، محکمہ برقیات، تعمیرات، سیاحت، خوراک، ہاؤسنگ اور دیگر محکموں کے ضلعی افسران بھی موجود تھے۔اجلاس میں متعلقہ افسران نے اپنے اپنے محکموں کی کارکردگی، جاری ترقیاتی منصوبوں، عوام کو فراہم کی جانے والی سہولیات اور درپیش مسائل کے حوالے سے وزیر سیاحت ،صنعت و معدنی وسائل کو بریفنگ دی۔ وزیر سیاحت عبدالرحمن آرائیں نے کہا کہ حکومت اور ضلعی انتظامیہ ایک ٹیم کی حیثیت سے کام کریں گی۔ حکومت کی جانب سے مقرر کردہ اہداف کے حصول کے لیے افسران کی بھرپور معاونت ناگزیر ہے۔ وفاق کی جانب سے حکومتی اہداف کی تیاری کے لیے ایک ماہ کا وقت دیا گیا تھا، تاہم آزاد کشمیر حکومت نے اپنا ہوم ورک صرف چھ دن میں مکمل کیا ہے۔ اب عملی میدان میں کام کرنے کا وقت ہے، افسران حکومت کا ساتھ دیں اور اپنی کارکردگی سے ثابت کریں کہ ریاستی ادارے عوامی خدمت کے لیے پوری طرح متحرک ہیں۔انہوں نے کہا کہ محمد نواز شریف کا وژن ترقی، مضبوط انفراسٹرکچر، جدید سہولیات، روزگار کے مواقع اور عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنے پر مرکوز رہا ہے۔ اسی وژن کو سامنے رکھتے ہوئے آزاد کشمیر میں ترقیاتی عمل تیز کیا جائے گا۔ سڑکیں، پانی، بجلی، صفائی، صحت، تعلیم، سیاحت، صنعت اور شہری سہولیات بنیادی عوامی ضروریات ہیں اور ان شعبوں میں واضح بہتری نظر آنی چاہیے۔وزیر سیاحت نے ضلع کوٹلی میں پانی کی فراہمی کو اہم مسئلہ قرار دیتے ہوئے متعلقہ محکمہ کو ہدایت کی کہ پانی کی لائنوں میں لیکیج کے مسائل فوری طور پر حل کیے جائیں اور پانی کی فراہمی کے مستقل و پائیدار نظام کے لیے قابلِ عمل منصوبہ پیش کیا جائے۔ انہوں نے سڑکوں کی خستہ حالی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سڑکوں کی حالت بہتر بنانے اور جاری ترقیاتی کاموں کی مؤثر نگرانی کی بھی ہدایت کی۔عبدالرحمن آرائیں نے گزشتہ دو ماہ کے دوران ہونے والی تقرریوں اور جاری کیے گئے فنڈز کی مکمل تفصیلات طلب کرتے ہوئے کہا کہ تمام معاملات کا شفاف انداز میں جائزہ لیا جائے گا۔ انہوں نے ہاؤسنگ اسکیم کے مسائل، کمرشل عمارتوں کی تعمیر، سڑکوں کی حالت اور لوڈشیڈنگ کے حوالے سے بھی متعلقہ افسران سے تفصیلی بریفنگ طلب کی۔انہوں نے کہا کہ سرکاری مشینری کی کارکردگی کا اصل پیمانہ یہ ہے کہ عام شہری کو کتنا ریلیف ملا۔ فائلوں کی گردش اور طویل انتظار کے بجائے فیصلہ سازی اور عملی اقدامات کا کلچر فروغ دیا جائے۔ عوامی شکایات کے ازالے کے لیے افسران ضرورت پڑنے پر فیلڈ میں جا کر مسائل کا جائزہ لیں۔ حکومت ایسی انتظامی اصلاحات متعارف کرانا چاہتی ہے جن کے نتائج عوام کو روزمرہ زندگی میں محسوس ہوں۔
وزیر سیاحت نے کوٹلی سمیت آزاد کشمیر میں سیاحت کے فروغ کے وسیع امکانات کا ذکر کرتے ہوئے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ سیاحتی مقامات کی نشاندہی، بنیادی سہولیات کی فراہمی، رسائی بہتر بنانے اور سیاحتی استعداد کو اجاگر کرنے کے لیے جامع تجاویز پیش کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ قدرتی حسن، پہاڑی علاقوں، دریاؤں، آبشاروں اور دیگر سیاحتی مقامات کو ترقی دے کر مقامی معیشت مضبوط بنانے کے ساتھ نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع بھی پیدا کیے جاسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صنعت اور معدنی وسائل کے شعبوں میں بھی آزاد کشمیر میں وسیع استعداد موجود ہے۔ مقامی وسائل کو ماحولیاتی تحفظ اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے بروئے کار لانے کے لیے مؤثر پالیسی اختیار کی جائے گی۔ سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جائے گا تاکہ ریاست میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں۔
عبدالرحمن آرائیں نے لوڈشیڈنگ اور بجلی سے متعلق عوامی شکایات کا سنجیدگی سے جائزہ لینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں صفائی، ٹریفک اور تجاوزات کے مسائل کے حل کے لیے متعلقہ ادارے مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں۔ تجاوزات کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے تاکہ شہریوں کو آمدورفت میں آسانی ہو اور ٹریفک کے مسائل کم کیے جاسکیں۔
وزیر مال و بحالیات راجہ محمد ریاست خان نے کہا کہ خطے کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے جن سے نمٹنے کے لیے حکومت، انتظامیہ اور تمام اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ مال کے معاملات کے حوالے سے الگ سے تفصیلی نشست منعقد کی جائے گی، جبکہ شہر میں صفائی کی صورتحال کے بارے میں بھی مکمل بریفنگ لی جائے گی۔انہوں نے عام شہری کو ہر ممکن ریلیف فراہم کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہر ادارے کا سربراہ اپنے محکمے کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے قابلِ عمل تجاویز پیش کرے۔ راجہ محمد ریاست خان نے سرکاری آٹے کی فراہمی جلد شروع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی بنیادی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس سلسلے میں تمام ضروری اقدامات مکمل کیے جائیں۔وزیر مال و بحالیات نے کہا کہ ملازمین کی اکھاڑ پچھاڑ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی پالیسی نہیں۔ سرکاری ملازمین ریاست کے ملازم ہیں اور حکومت کا ملازمین کے ساتھ عزت و احترام کا رشتہ ہے، جسے ہر صورت برقرار رکھا جائے گا۔ افسران اور ملازمین اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں ادا کریں اور عوامی خدمت کو اولین ترجیح بنائیں۔راجہ محمد ریاست خان نے ضلعی پولیس کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایس پی چوہدری عدیل احمد لنگڑیال نے پولیس فورس کو اچھے انداز میں لیڈ کیا ہے۔ ریاست کو مزید پرامن بنانے کے لیے تمام اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ ضروری ہے۔انہوں نے محکمہ مال کے پٹواریوں کے حوالے سے موصول ہونے والی شکایات کا ذکر کرتے ہوئے عوام کے ساتھ رویہ بہتر بنانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ پٹواریوں کی ایک جگہ پر ایک سال سے زائد تعیناتی نہ کی جائے اور انتظامی امور میں شفافیت یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے جدید اور ماحول دوست سفری سہولیات کے لیے الیکٹرک بسوں کے منصوبے پر کام جاری رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ڈپٹی کمشنر محمد عثمان صارم نے اجلاس میں زیر بحث امور پر متعلقہ افسران کو ضروری ہدایات جاری کرتے ہوئے حکومتی پالیسیوں پر مؤثر عملدرآمد، اداروں کے درمیان بہتر رابطے اور عوامی مسائل کے بروقت حل کو یقینی بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.