نیشنل انڈسٹریل پالیسی،ہارون اخترکامعاشی بحالی کا ویژن

وزیراعظم کے معاونِ خصوصی ہارون اختر خان کی بورڈ آف انویسٹمنٹ کی نیشنل ریگولیٹری ریفارمز کانفرنس میں نیشنل انڈسٹریل پالیسی پر بریفنگ

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)وزیراعظم کے معاون خصوصی، جناب ہارون اختر خان نے اسلام آباد کے میریٹ ہوٹل میں بورڈ آف انویسٹمنٹ (BOI) کے زیر اہتمام ریگولیٹری اصلاحات پر منعقدہ اعلیٰ سطحی کانفرنس سے خطاب کیا۔ اپنے کلیدی خطاب میں جناب ہارون اختر خان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت پاکستان کو ایک ترقی یافتہ ریاست میں تبدیل کرنے کے لیے ایک فعال اور عمل پر مبنی نیشنل انڈسٹریل پالیسی (NIP) نافذ کر رہی ہے۔

 

انہوں نے عالمی سطح پر اقتصادی تبدیلی کے ماڈلز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں تبدیلی کا ایک نیا دور شروع ہو چکا ہے، جس کی قیادت وزیراعظم کے اقتصادی اقدامات (Economic Initiatives for Transformation and Advancement of Pakistan – EITAP) کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا:

“یہ صرف ریگولیٹری اصلاحات کا لمحہ نہیں، بلکہ قومی سطح پر تبدیلی کی ایک تحریک ہے۔”

 

انہوں نے ماضی کے معاشی چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالا تو مہنگائی کی شرح 38 فیصد جبکہ شرحِ سود 22 فیصد تھی۔

“آج ہم نے مہنگائی کو کم کر کے 1.5 فیصد تک پہنچا دیا ہے — جو کہ ایک بڑی کامیابی ہے۔”

تاہم، انہوں نے اعتراف کیا کہ کچھ بڑے مسائل اب بھی موجود ہیں، جیسے کہ توانائی کی بلند لاگت، بھاری ٹیکس بوجھ، اور شرحِ سود، جو ملکی صنعت اور برآمدات کی مسابقت پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔

 

مستقبل کی سمت کا تعین کرتے ہوئے، معاون خصوصی نے سپر ٹیکس کے خاتمے، کارپوریٹ ٹیکس کی شرحوں کو معقول بنانے، اور ایندھن کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ بجلی کے نرخوں میں کمی کے لیے استعمال کرنے کی ضرورت پر زور دیا — یہ وہ کلیدی اقدامات ہیں جو صنعتی اور برآمدی ترقی کو فروغ دیں گے۔

انہوں نے کہا:

“ہمیں برآمد کنندگان کے لیے لاگت کے مسائل ختم کرنا ہوں گے۔ یہی پائیدار اور مضبوط معیشت کی بنیاد ہے۔”

 

نیشنل انڈسٹریل پالیسی، جو وزارتِ صنعت و پیداوار کی سربراہی میں اور بین الاقوامی ماہرین خصوصاً پروفیسر نکولس لیا (سابق چیف اکنامسٹ، DFID UK) کی تکنیکی رہنمائی میں تیار کی گئی ہے، ایک جامع حکمتِ عملی ہے جس کا مقصد صنعتی بحالی، پیداواری صلاحیت میں اضافہ، اختراعات کو فروغ دینا، اور جامع ترقی کو ممکن بنانا ہے۔

ہارون اختر خان نے زور دیا کہ یہ پالیسی محض نظریاتی نہیں، بلکہ زمینی حقائق پر مبنی ہے۔

 

انہوں نے نیشنل انڈسٹریل پالیسی (NIP) کے درج ذیل اہم نکات پیش کیے:

 

بیمار صنعتی یونٹس کی بحالی: پاکستان بینکنگ ایسوسی ایشن کے اشتراک سے مالیاتی ری اسٹرکچرنگ پیکجز کے ذریعے

 

قرض تک رسائی: مینوفیکچرنگ سیکٹر کو قرض دینے کے لیے بینکوں کو مراعات

 

سرمایہ کاری تحفظ فریم ورک: سرمایہ کاروں کو غیر ضروری ریگولیٹری اقدامات سے بچانے کے لیے

 

ٹیکس اصلاحات: کارپوریٹ ٹیکس میں کمی اور سپر ٹیکس کے نظام میں اصلاح

 

برآمدی مسابقت: توانائی اور مالیاتی لاگت میں کمی

 

جدید دیوالیہ قوانین: مشکلات کے شکار کاروباروں کو سہارا دینے کے لیے

 

ریگولیٹری اصلاحات: ریاستی مداخلت میں کمی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی

 

سرمایہ کاری کی واپسی میں سہولت: خصوصاً بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے

 

 

جناب ہارون اختر خان نے اس بات پر زور دیا کہ یہ پالیسی صرف فائلوں کی زینت نہیں بنے گی۔

 

انہوں نے کہامیں ایک عمل پر یقین رکھنے والا شخص ہوں، اور یقین دلاتا ہوں کہ یہ پالیسی نتائج کی صورت میں ظاہر ہوگی۔ ہماری کاروباری برادری وضاحت، اعتماد اور تسلسل کی مستحق ہے۔”

 

انہوں نے مزید کہا کہ طویل مدتی ترقی کے لیے سیاسی استحکام اور اقتصادی وژن کا تسلسل ضروری ہے۔

“ہم اگلے 7 سے 8 سال تک 6 سے 7 فیصد جی ڈی پی ترقی برقرار رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں — یہی ترقی یافتہ قوم بننے کا راستہ ہے۔”

 

سیشن کا اختتام ہارون اختر خان کی اس اپیل کے ساتھ ہوا کہ حکومت، نجی شعبہ اور سول سوسائٹی کو پاکستان کی اقتصادی بحالی کے لیے متحد ہو کر کام کرنا ہوگا۔

 

انہوں نے کہا کہ نیشنل انڈسٹریل پالیسی تمام اسٹیک ہولڈرز کی اجتماعی سوچ اور وزیراعظم کے اس عزم کی نمائندہ ہے کہ پاکستان کو ایک نئے صنعتی دور میں داخل کیا جائے۔

 

Comments are closed.