ازبکستان کے سفیرکی وفاقی وزیرہاؤسنگ وتعمیرات سے ملاقات

ازبکستان کے سفیر کی وفاقی وزیر ہاؤسنگ و تعمیرات سے ملاقات: رہائشی اور کمیونل ترقی میں تعاون پر گفتگو

 

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)وفاقی وزیر برائے ہاؤسنگ و تعمیرات، میاں ریاض حسین پیرزادہ سے ازبکستان کے پاکستان میں سفیر، Alisher Tukhtaev کی ملاقات،

 

ملاقات کے دوران دونوں شخصیات کے مابین رہائش، کمیونل ترقی، اور پائیدار شہری ترقی کے شعبوں میں تعاون کے ممکنہ امکانات پر ڈید حاصل گفتگو ہوئی۔

 

وفاقی وزیر نے سفیر کا خیرمقدم کیا اور ازبکستان کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت کو سراہتے ہوئے باہمی تعاون کے وسیع امکانات کو اجاگر کیا۔ انہوں نے پاکستان میں رہائشی ضروریات میں اضافے اور پانی کی بڑھتی ہوئی قلت کے پس منظر پائیدار اور جدید حل اپنانے کی اہمیت پر زور دیا، جن میں ری سائیکلنگ، گرین کنسٹرکشن اور وسائل کی مؤثر شہری ترقیاتی حکمتِ عملی شامل ہیں۔

 

سفیر نے پاکستان اور ازبکستان کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور مذہبی تعلقات کو اجاگر کیا اور شہری ترقی کے میدان میں ازبکستان کے تجربات کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ فروری 2025 میں تاشقند میں ہونے والی ملاقاتوں کا ایک اہم نتیجہ ہاؤسنگ اور کمیونل سروسز کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپ کا قیام تھا۔

 

انہوں نے ازبکستان میں جاری معاشی اصلاحات، براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافے اور ہاؤسنگ و تعمیرات کے شعبے میں رونما ہونے والی تبدیلیوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے رہائشی ترقی، واٹر ری سائیکلنگ، گرین ہاؤسنگ اور سماجی انفراسٹرکچر کے شعبوں میں تربیتی اور صلاحیت سازی کے پروگراموں میں تعاون کی پیشکش کی۔

 

سفیر نے بارش کے پانی کو محفوظ کرنے، اسمارٹ اور گرین ہاؤسنگ، بلند عمارتوں کی تعمیر اور کم آمدنی والے افراد کے لیے سستی رہائش جیسے ماڈلز اور تجربات پاکستان کے ساتھ شیئر کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ انہوں نے پبلک پروکیورمنٹ، قانونی اور ادارہ جاتی اصلاحات، اور تعمیراتی رجحانات پر پالیسی پر تعاون اور بہترین تجربات کے تبادلے کی تجویز بھی دی، اور کہا کہ ازبکستان ان شعبوں میں اپنا تکنیکی تجربہ پاکستان کے ساتھ شیئر کے لیے پُرعزم ہے۔

 

دونوں فریقین نے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ طویل عرصے سے قائم سفارتی تعلقات کو اقتصادی اور صنعتی شراکت داری میں تبدیل کیا جائے گا، خصوصاً ہاؤسنگ اور شہری ترقی کے شعبوں میں۔

Comments are closed.