پاسبان وطن کا مظفر آباد سے عوامی رابطہ مہم کا آغاز

26 جون سے مہم سازی و رجسٹریشن کا آغاز مظفر آباد سے کر رہے ہیں،پاسبان وطن پاکستان پأرٹی

 

اسلام آباد(رازق بھٹی) چیئرمین پاسبان وطن پاکستان پأرٹی شیخ مختار احمد، صدر پاسبان وطن پاکستان پارٹی طاہر کھوکھر نے کہا ہے کہ پاکستان میں پارٹی کی مقبولیت کے بعد آزاد کشمیر میں 26 جون سے مہم سازی و رجسٹریشن کا آغاز مظفر آباد سے کر رہے ہیں مقصد عام آدمی کو طاقت ور بنا کر صدارتی نظام کے راٸج اور ضلعی و بلدیاتی نظام کر مضبوط کرنا چاہتے ہیں،

 

اس وقت آزاد کشمیر میں پتہ نہیں کس پارٹی کی حکومت ہے، تمام پارٹیاں حکومت میں بھی ہیں اور اپوزیشن کا دعوی بھی کرتے نظر آ رہے ہیں۔ آزاد کشمیر میں عوام مساٸل کے حل میں موجودہ حکومت کی بجاۓ ایکشن کمیٹی نے کردار ادا کیا، کوشش ہے کہ ایکشن کمیٹی کو ساتھ ملا کر عوامی مساٸل اور بہتر نظام کر راٸج کرنے میں اپنا کردار ادا کر سکیں،

 

سردار تنویر الیاس کا پیپلز پارٹی میں شمولیت سے پیپلز پارٹی کی ناکام چہرہ بے نقاب ہوا، آزاد کشمیر میں 10 اضلاع اور 45 جھنڈوں والے وزیر موجود ہیں جو آزاد کشمیر کی عوام و حکومت پر بوجھ ہیں، آزاد کشمیر میں 10 افراد پر موجود صدارتی و ضلعی نظام ہونا وقت کی ضرورت و ترقی کی علامت ہو گی

 

جی بی میں راٸج نظام فیل ہو چکا ہماری پارٹی کی پیس کردا صدارتی نظام کو متعارف کرایا جاۓ، بیرون ملک کشمیریوں کو کشمیر میں سرمایا کاری کے لٸے آمادہ کر رہے ہیں،ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز پارٹی کے عہدیداران کی جانب سے پاکستان میں پاسبان وطن پاکستان پارٹی کی مقبولیت کے بعد آزاد کشمیر میں مہم سازی سے قبل تجربہ کار صحافیوں سے مشاورتی اجلاس کے دوران کیا،

 

صدر پاسبان وطن پاکستان پارٹی طاہر کھوکھر نے کہا کہ 26 جون 2025 سے پارٹی کی مہم سازی و رجسٹریشن کا عمل آزاد کشمیر کے دارلحکومت مظفر آباد سے آغاز کیا جا رہا ہے،سیاسی جماعتوں کے ساتھ ملاقاتیں کی جاٸیں گیں، کوشش ہے کہ عام آدمی کو طاقت ور بنا سکیں،عام ادمی سے ملنا اولین ترجیحی ہے، جاگیردارانہ نظام کو ختم کریں گے، اس وقت پتہ نہیں آزاد کشمیر میں کس کی حکومت ہے،

 

ایسا وزیر اعظم جس کی نہ پارٹی اور نہ قیادت، موجودہ وزیر اعظم کی موجودگی میں بنیادی مساٸل کے حل کی بجاۓ کرپشن و بری گورننس میں أضافہ ہوا تمام سیاسی جماعتوں کی حکومت ہے بھی اور نہیں بھی انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے مساٸل کی نماٸندگی ایکشن کمیٹی نے کیا،

 

سابق وزیر اعظم تنویر الیاس کا پیپلز پارٹی میں شامل ہونا، ناکامی کا ثبوت ہے، تنویر الیاس کے وزیر اعظم کے دور میں ان کا دن کو سونا اور رات کو جاگنا کہاں کی ترقی تھی، پیسے کے ذریعے کامیابی نہیں ملتی، تنویر الیاس کے حکومت کی ناکامی ہی ان کا پیسہ تھا، انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں 10 اضلاع اور 45 جھنڈے والے وزیر موجود ہیں، آزاد کشمیر کے وزرء آزاد کشمیر پر بوجھ ہیں، آزاد کشمیر میں 10 افراد پر مشتمل صدارتی و ضلعی نظام ہونا چاہیے،

 

انہوں نے کہا کہ اداروں کے خلاف مہم چلانا اشتعال دلوانہ منفی اور بین الاقوامی ایجنڈا ہے اداروں کے درمیان پل کا کردار ادا کر رہے ہیں،15 سال نظام کا حصہ رہا ہوں، ظلم کا حصہ رہا، لیکن مشکل سے نکل کر آگے جانا چاہتا ہوں لاڑکانہ کی سیاسیت نہیں چاہتے،

کشمیریوں کے لۓ کشمیر کی سیاست ہو گی میڈیا کے ساتھ بیٹھ کر مشکلات سے نکلنے کی کوشش کریں گے، عوامی مساٸل کو سامنے رکھ کر آگے جانا ہےگزشتہ کسی ایک الیکشن میں بھی ایک روپیہ نہیں لگایا تھا، انہوں نے کہا کہ الیکشن میں حصہ لینے کے لیے میرا مستقبل پارلیمانی کمیٹی کرے گی،

 

عوام سے مسلسل رابظہ میں ہوں 1000 ہزار سے زاٸد ممبران آزاد کشمیر میں موجود ہیں، پارٹی رجسٹریشن کا مرحلہ چند ایام میں ہو جاۓ گا۔ آزاد کشمیر میں انڈسٹری موجود نہیں ہے،آزاد کشمیر میں صدارتی نظام ہونا وقت کی اہم ضرورت ہےایکشن کمیٹی کے ساتھ مل کر ترقی کا کام کرنا چاہتے ہیں،

 

ایکشن کمیٹی ہمارے ساتھ ملکر کام کرنے میں اگے آۓجی بی کا نظام پیچھے رہ گیا جی بی کے نظام کر ختم ہونا چاہیے ہماری ازاد کشمیر کے لیے دی گٸی تجویز کو جی بی میں لاگو کیا جاۓ

 

چٸیرمین پاسبان وطن پاکستان پارٹی شیخ مختار نے کہا کہ کشمیر کے لیے ہر حد پار کرنے کے لیے تیار ہیں، آزاد کشمیر میں موجود ترقی کا ہر مسلہ حل کریں گے، دورا کشمیر میں عوام کے مساٸل کو ترجیح بنیادوں ہر رکھا جاۓ گا،

کشمیر میں صدارتی نظام لایا جانا چاہیےبلدیات مضبوط کرنا آزاد کشمیر میں ترقی آۓ گیضلعی نظام کی زریعے بہتری آۓ گیپارٹی فنڈز دینے کی آفر ہویں لیکن نہیں قبول کیا متنازعہ حثیت کو سامنے رکھتے ہوۓ بیس کیمپ کو فعال کریں گے،اداروں میں تصادم نہیں اداروں کو مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں۔

Comments are closed.