وفاقی وزیر سید عمران احمد شاہ کا پشاور میں بی آئی ایس پی اور بیت المال دفاتر کا دورہ
فلاحی پروگراموں کا جائزہ، شفاف اور منصفانہ امداد کی فراہمی پر زور
پشاور(کشمیر ایکسپریس نیوز)وفاقی وزیر برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ، سید عمران احمد شاہ نے پشاور میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) اور پاکستان بیت المال کے دفاتر کا دورہ کیا۔ یہ دورہ ملک بھر میں وزارت کے تحت جاری فلاحی منصوبوں کے جائزے کی کڑی تھا۔
بی آئی ایس پی کے زونل دفتر میں وزیر کو ڈائریکٹر جنرل خیبرپختونخوا حیدر مرتضیٰ نے بریفنگ دی۔ انہیں بتایا گیا کہ صوبے بھر میں 140 رجسٹریشن مراکز کام کر رہے ہیں، جہاں 1.47 ملین مستحق افراد کی دوبارہ تصدیق ہو چکی ہے جبکہ 1,736 نئے خاندانوں کو بھی امدادی پروگرام میں شامل کیا گیا ہے۔
بینظیر نشوونما پروگرام کے تحت اب تک 6 لاکھ سے زائد خواتین اور بچوں کو صحت و غذائیت سے متعلق امداد دی گئی ہے، جبکہ بینظیر کفالت پروگرام کے ذریعے صوبے کے 34 اضلاع میں تقریباً 20 لاکھ خواتین کو مالی مدد فراہم کی جا رہی ہے۔ اس موقع پر وفاقی وزیر نے بی آئی ایس پی آفس میں “بینظیر گرین پاکستان انیشی ایٹو” کے تحت ایک پودا بھی لگایا۔
بعد ازاں وفاقی وزیر نے پاکستان بیت المال کے دفتر کا دورہ کیا، جہاں ڈائریکٹر لال بادشاہ نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں 30 تربیتی مراکز کام کر رہے ہیں، جہاں غریب خواتین کو کشیدہ کاری، کمپیوٹر اور دیگر شعبوں میں ہنر سکھایا جا رہا ہے۔
صوبے میں بیت المال کے زیر انتظام 8 یتیم خانے بھی قائم ہیں، جہاں 800 بچے نہ صرف رہائش پذیر ہیں بلکہ انہیں میٹرک تک تعلیم بھی فراہم کی جا رہی ہے۔ ان یتیم خانوں میں مکمل نگرانی کے لیے سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہیں۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ بیت المال کی جانب سے معاشی طور پر کمزور طبقے سے تعلق رکھنے والے بچوں کو تعلیمی وظائف اور معذور افراد کو مالی امداد دی جا رہی ہے۔
وفاقی وزیر نے بیت المال اور بی آئی ایس پی کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت صرف مالی امداد تک محدود نہیں بلکہ ہنر سکھا کر خود انحصاری کو فروغ دینا چاہتی ہے۔ انہوں نے “ہنر مند پاکستان پروگرام” کو نوجوانوں کی ترقی اور معیشت کی بہتری کا اہم ذریعہ قرار دیا۔
وزیر نے زور دیا کہ بیت المال اور بی آئی ایس پی کے درمیان بہتر رابطہ اور ڈیٹا شیئرنگ کا نظام قائم کیا جا رہا ہے تاکہ امداد درست اور مستحق افراد تک بروقت پہنچے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ فلاحی فنڈز میں کرپشن کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔
وفاقی وزیر نے عملے کو درپیش مسائل جیسے خالی آسامیوں، انٹرنیٹ کے مسائل اور گاڑیوں کی کمی کو جلد از جلد حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
انہوں نے اعلان کیا کہ بلوچستان ان کے دورہ جات کا اگلا مرحلہ ہوگا، جہاں خواتین اور نوجوانوں کے لیے رہائش، روزگار اور فنی تربیت کے نئے منصوبے شروع کیے جائیں گے۔
سید عمران احمد شاہ نے کہا کہغربت کے خاتمے کے لیے حکومت پرعزم ہے۔ ہم ہر غریب شہری کو سہارا دینا چاہتے ہیں، خواہ اس کا تعلق کسی بھی مذہب، قومیت یا سیاسی پس منظر سے ہو۔ ہر وہ خاندان جو غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہا ہے، ہماری ذمہ داری ہے۔

Comments are closed.