آزاد کشمیر میں کشیدگی،مذاکرات موخر،پرتشدداحتجاج کسی معاملے کا حل نہیں،حکومتی کمیٹی
مظفر آباد(کشمیر ایکسپریس نیوز) آزاد کشمیر کی کشیدہ صورتحال پر حکومت اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان جاری مذاکرات اچانک مؤخر کر دیے گئے۔ ذرائع کے مطابق فریقین کے درمیان مختلف نکات پر تفصیلی بات چیت ہو رہی تھی تاہم کچھ معاملات پر اتفاق نہ ہونے کے باعث مذاکرات کل تک ملتوی کر دیے گئے۔
مذاکرات کے دوران عوامی ایکشن کمیٹی کے نمائندوں نے موبائل اور انٹرنیٹ سروسز کی فوری بحالی، گرفتار کارکنوں کی رہائی اور اضافی فورسز کی واپسی کے مطالبات دہرائے۔ حکومتی وفد نے مسائل کے حل کی یقین دہانی کرائی مگر مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکے۔
وفاقی وزیر طارق فصل چوہدری نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کا ایک اعلی سطحی وفد آج مظفرآباد میں آزاد جموں و کشمیر کی مشترکہ ایکشن کمیٹی کے نمائندوں کے ساتھ باضابطہ مذاکرات کا آغاز کر چکا ہے۔
وفاقی حکومت کے وفد میں وفاقی وزیر رانا ثناء اللہ، طارق فضل چوہدری، احسن اقبال ، سرداریوسف، امیرمقام، سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف، سابق وفاقی وزیر قمرزمان کائرہ اور سابق صدر آزادکشمیر سردار مسعود خان شامل ہیں جبکہ عوامی ایکشن کمیٹی کے وفد میں کورممبر شوکت نواز میر اور دیگر بھی شامل ہیں۔
طارق فضل چوہدری کی طرف سے شیئر کی گئی تصویر میں عوامی ایکشن کمیٹی کے تین ارکان کو بیٹھے ہوئے دکھایا گیا ہے۔مظفر آباد روانگی پر مشترکہ پریس کانفرنس میں وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ آزادکشمیر کے لوگوں کے جائز مسائل کے حل کیلئے حکومت کردار ادا کرے گی، کچھ عناصرپاکستان کے داخلی امن میں خلل ڈالنے کیلئے فائدہ اٹھانا چاہیں گے۔
احسن اقبال نے مزید کہا کہ آزادکشمیر کے عوام کے تمام جائز مطالبات و جذبات کی قدرکرتے ہیں، امید ہے کہ بات چیت کے ذریعے تمام مسائل کو حل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔
راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ کوشش ہوگی کہ کشمیر کے عوام کے جائز مطالبات فوراً پورے کیے جائیں، اس صورتحال سے جلد نکلنا ضروری ہے، پاکستان اور کشمیر دشمنوں کے کئی عزائم ہوسکتے ہیں، مل بیٹھ کر گفت و شنید کے ذریعے جائز مطالبات کو حل کرنا چاہئے۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ وزیرعظم کی ہدایت پر تمام دوست یہاں موجود ہیں، تشدد سے معاملات الجھتے ہیں سلجھتے نہیں، ہمیں بیٹھ کر جائز مطالبات پر بات کرنا ہوگی، پورا یقین ہے عوامی ایکشن کمیٹی کے دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر تمام غلط فہمیوں کو سلجھا لیں گے، آزادکشمیر کے لوگ ہمارے بھائی ہیں۔
امیر مقام نے کہا کہ ہماری خواہش ہے کہ آزادکشمیر کے عوام کے جائز مطالبات حل ہوں، احتجاج اورتشدد سے کچھ حاصل نہیں ہوتا، مسائل بیٹھ کر بات چیت سے حل ہوتے ہیں۔سردار یوسف نے کہا کہ ہر بڑے مسئلے کا حل بات چیت سے ہی ہوتا ہے، وزیراعظم نے کہا کہ جائز مطالبات کو مانا جائے گا، عوامی ایکشن کمیٹی کے لوگ آزادکشمیر کی بہتری کیلئے بات چیت کریں گے،
امید ہے یہ مسئلہ حل ہوجائے گا۔ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے کہا کہ پرتشدداحتجاج کسی معاملے کا حل نہیں، معاملات بات چیت کے ذریعے حل ہونے چاہئیں۔قمر زمان کائرہ نے کہا کہ ہم ڈائیلاگ کے ذریعے جائز مطالبات کو مانیں گے، معاملات کا ڈائیلاگ کے ذریعے حل نکالنا چاہئے، پہلے بھی مسائل ڈائیلاگ سے ہی حل ہوئے،
امید ہے وہ وزیراعظم کی کاوش کو غور سے سنیں گے اورہمارے ساتھ تعاون کریں گے۔وزیراعظم آزاد کشمیر انوار الحق نے کہا کہ آزادکشمیرکےعوام کوانتہائی ناخوشگوارصورتحال کا سامنا کرنا پڑا، وزیراعظم شہبازشریف نےبیرون ملک ہوتے ہوئے بھی صورتحال کا نوٹس لیا، چاہتے ہیں احتجاج ختم ہو اور کشمیری عوام مشکل سے باہر نکل آئے۔
انوارالحق نے امید ظاہر کی کہ مذاکرات میں جو تعطل آیا تھا اس کو دوبارہ بحال کرایا جائے گا۔آزاد کشمیر حکومت نے بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب اپنے بیان میں کہا تھا کہ ان مظاہروں کے دوران ہونے والی جھڑپوں میں تین پولیس اہلکاروں سمیت 9 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ سینکڑوں زخمی ہیں۔جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اپنے 38 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ کے ساتھ احتجاج کر رہی ہے۔
ان مطالبات میں انفراسٹرکچر کی بہتری، صحت اور تعلیم کی سہولتوں کی فراہمی، جنگلات کے کٹاو کو روکنے، اشرافیہ کی مراعات کے خاتمے اور پاکستان میں مقیم مہاجرین کی کشمیر اسمبلی میں 12 نشستوں کے خاتمے جیسے مطالبات شامل ہیں۔
عوامی ایکشن کمیٹی کا موقف ہے کہ حکومت نے گذشتہ برس 8 دسمبر کو طے پانے والے معاہدے کے بعد کیے گئے نوٹیفیکیشنز پر عمل نہیں کیا۔بدھ کو کشمیر کے تمام اضلاع سے مظاہرین کے قافلے دارالحکومت مظفرآباد کی جانب بڑھتے رہے۔
مظاہرین راستے میں موجود رکاوٹوں کو ہٹاتے ہوئے سہ پہر میں مظفرآباد پہنچے۔باغ سے آنے والے مظاہرین کا دھیرکوٹ کے نواحی علاقے چمیاٹی میں سکیورٹی فورسز سے تصادم ہوا۔آزاد کشمیر حکومت نے بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب اپنے بیان میں کہا تھا کہ ان مظاہروں کے دوران ہونے والی جھڑپوں میں تین پولیس اہلکاروں سمیت 9 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ سینکڑوں زخمی ہیں۔
آزاد کشمیر کے تمام شہروں میں احتجاج سے ایک دن قبل 28 ستمبر کی دوپہر سے موبائل فون اور تمام انٹرنیٹ سروسز معطل کردی گئیں جس سے اطلاعات کی رسائی اور شہریوں کے باہمی رابطوں میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔

Comments are closed.