حکومت اور ایکشن کمیٹی کے مابین تاریخی معاہدہ طے ہڑتال ختم

حکومت اور ایکشن کمیٹی کے مابین تاریخی معاہدہ طے ہڑتال ختم، انٹرنیٹ و موبائل سروسز بحال، 3روزہ سوگ کا اعلان ،7اکتوبر کو اظہار تشکر منائیں گے،شوکت نواز، عمر نذیر

 

مظفرآباد(کشمیر ایکسپریس نیوز) جموں وکشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور حکومت پاکستان و حکومت آزادکشمیر کے مابین 42 نکاتی معاہدہ طے پاگیا، ایکشن کمیٹی کے کور ممبران شوکت نواز میر و عمر نذیر کشمیری نے 6 روز سے جاری ریاست گیر شٹرڈان و پہیہ جام ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا،

 

بازار، بینک، شاہرات کھل گئی ہر طرف زندگی کی چہل پہل بحال ،حکومت نے بھی آزاد کشمیر بھر میں 7 ویں روز بعد از دوپہر انٹرنیٹ و موبائل فون سروسز بحال کردی ،

 

وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر سابق وزیراعظم پاکستان راجہ پرویز اشرف کی قیادت میں دس رکنی اعلی سطحی کمیٹی اور ایکشن کمیٹی کے 3 اراکین کے درمیان طے شدہ بھی سامنے آ گیا،

 

معاہدے کے تحت 12 کشمیری مہاجر ممبران(مقیم پاکستان) وزارتوں اور فنڈز سے محروم کردئیے گئے ، موجودہ 8 مہاجر وزرا کابینہ سے برطرف ہونگے،

 

کابینہ ممبران کی تعداد آئندہ 36 سے کم کرتے ہوئے 20 رکھی جائے گی اور 32 سرکاری محکموں کی تعداد کم کرتے ہوئے 20 کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ چھوٹے محکمے ختم یا دیگر محکموں میں ضم کرنے کا فیصلہ،

 

اعلی سطحی آئینی کمیٹی( دو وفاقی وزرا ، دو آزادکشمیر کے وزرا اور دو ایکشن کمیٹی کے ممبران)مہاجر سیٹوں کے خاتمے، کمی وغیرہ سمیت اشرافیہ میں شامل ججز ، سابق صدور، وزرائے اعظم، وزرا ، ممبران اسمبلی سابق ججز، سابق و موجودہ لینٹ افیسران و سیکرٹریز کی پنشن اور سرکاری افسران کو حاصل مراعات بارے حتمی فیصلہ کرے گی۔

 

یہ کمیٹی حکومت آزادکشمیر پر مکمل مانیٹرنگ کا کام کرتے ہوئے اس معاہدے پر جائزہ لینے اور عمل درآمد یقینی بنانے کیلئے ہر 15 دن بعد اجلاس کرے گی۔

 

معاہدہ کے تحت حالیہ احتجاج کے دوران شہید ہونے والے افراد کے ورثا کو شہدا پیکیج کے تحت انتہائی معقول مالی امداد، فی کس خاندان کو ایک سرکاری ملازمت اور زخمیوں کو فی کس 10 لاکھ روپے دیے جائیں گے۔

 

تمام ادائیگیاں اور ملازمتیں 20 دن میں فراہم کی جائیں گی۔ جانی نقصان اور تشدد کے ذمہ داران کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت ایف آئی آر درج ہوں گی، ضرورت پڑنے پر عدالتی کمیشن بھی تشکیل دیا جائے گا۔

 

19 مئی 2023 تک اب تک عوامی ایکشن کمیٹی اور شہریوں پر اس مزاحتی تحریک کے دوران جتنے بھی مقدمات قائم کیے گئے ان سب کا خاتمہ کیا جائے گا۔ معاہدہ کے تحت مظفرآباد اور پونچھ ڈویژنز میں دو نئے انٹرمیڈیٹ و سیکنڈری تعلیمی بورڈز قائم کیے جائیں گے اور تمام تعلیمی بورڈز کو فیڈرل بورڈ اسلام آباد سے منسلک کیا جائے گا۔

 

یہ عمل 30 دن میں مکمل کیا جائے گا۔ ریاست بھر میں یکساں نظام تعلیم اور یکساں میرٹ کا قیام کیا جائے گا۔ طلبا تنظیموں کی بحالی کیلئے تین ماہ میں ضابطہ اخلاق بنایا جائے گا۔

 

معاہدہ کے تحت موبائل سروسز کی بہتری کیلئے 8 ارب روپے کا حکومت آزادکشمیر کے پاس موجود آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ کے پاس موجود ان سروسز کی بہتری کیلئے استعمال میں لایا جائے گا۔

 

موبائل پیکیجز اور ان کا معیار اسلام آباد کے برابر کیا جائے گا۔ منگلا ڈیم اپ ریزنگ منصوبے کے متاثرہ خاندانوں کی زمینوں کو 30 دن میں قانونی شکل دے کر رجسٹرڈ کیا جائے گا۔

 

معاہدہ کی ایک اور شق کے مطابق بلدیاتی نمائندگان کو مکمل با اختیار کرنے اور تمام لوکل گورنمنٹ کے فنڈز منتقل کیلئے آزادکشمیر کا لوکل گورنمنٹ ایکٹ اپنی اصل شکل (1990) کے مطابق بحال ہوگا اور سپریم کورٹ کے فیصلوں پر 90 دن میں مکمل عملدرآمد کیا جائے گا

 

معاہدہ میں درج ہے کہ آزادکشمیر کے تمام لوگوں کیلئے ہیلتھ کارڈ کے نفاذ اور فعال کرنے کے لیے فنڈز 15 دن کے اندر جاری ہوں گے، ہر ضلع اور ہر تحصیل کے ہسپتالوں میں مرحلہ وار MRI اور CT اسکین مشینیں فراہم کی جائیں گی جن کے اخراجات حکومت پاکستان برداشت کرے گی۔

 

بجلی کے نظام کی بہتری کے لیے حکومت پاکستان 10 ارب روپے فراہم کرے گی، جس کا تفصیلی منصوبہ جاری ہوگا۔ عوامی ایکشن کمیٹی آزادکشمیر بھر میں بجلی چوری ، محکمہ برقیات کی میٹرنگ ، غیر قانونی کنکشن منقطع کرنے اور بقایا جات کی ادائیگی میں محکمہ برقیات کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی۔

 

معاہدے کی ایک او اہم شق کے مطابق کرپٹ عناصر پر ہاتھ ڈالنے کیلئے آزادجموں کشمیر احتساب بیورو اور اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کو ضم کیا جائے گا اور آزادکشمیر کا احتساب ایکٹ، پاکستان کے نیب قوانین کے مطابق بنایا جائے گا۔

 

عوام کے دیرینہ مطالبے پر وادی نیلم روڈ پر کہوڑی/کامسر اور چھلپانی کے مقام پر دو سرنگوں کی تعمیر کے لیے فزیبلٹی اسٹڈی حکومت پاکستان کرے گی جسے سعودی ڈویلپمنٹ فنڈ کے تحت اولین ترجیح پر تعمیر کیا جائے گا جبکہ میرپور میں انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قیام کے لیے موجودہ مالی سال میں ٹائم فریم کا اعلان کیا جائے گا۔

 

پراپرٹی ٹیکس کو پنجاب اور خیبرپختونخوا کے برابر کیا جائے گا جو تین ماہ میں نافذ ہوگا۔ ایڈوانس ٹیکس میں کمی گلگت بلتستان اور فاٹا کی طرز پر کی جائے گی۔

 

10 اضلاع میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے منصوبوں کی فزیبلٹی اسٹڈی موجودہ مالی سال میں مکمل کی جائے گی اور تمام تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں میں آپریشن تھیٹرز اور نرسری یونٹس قائم کرنے کے لیے فنڈز جاری کیے جائیں گے۔

 

عوامی سہولت کیلئے گلپور اور رحمان (کوٹلی) پر دو نئے پل تعمیر کیے جائیں گے اور ڈڈیال کی کشمیر کالونی کے لیے واٹر سپلائی اسکیم اور ٹرانسمیشن لائن منصوبہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کیا جائے گا۔منڈور کالونی ڈڈیال کے مہاجرین کو ملکیتی حقوق دیے جائیں گے۔

 

کہوٹہ آزاد پتن سڑک سدھنوتی کی حدود میں مرمت اور تعمیر کی جائے گی۔معاہدے کے بعد وزیر اعظم پاکستان کی جانب سے بھیجے گئے وفاقی 8 رکنی وفد اور اور آزاد کشمیر کے دو وزرا سمیت ایکشن کمیٹی کے 6 سے زائد ممبران نے مظفرآباد کے پانچ ستارہ ہوٹل میں مشترکہ پریس کانفرنس کی

 

جس میں شوکت نواز میر نے ببانگ دھل کہا کہ پاکستان ہمارا محسن اور بڑا بھائی ہے اور وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل و آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے شکر گزار ہیں کہ انھوں نے معاملے کی حساسیت کو سمجھتے ہوئے ایک وفاقی کمیٹی تشکیل دی جنھوں نے مظفرآباد آکر تین دن مسلسل مذاکرات کیے اور آج ہم قوم کو خوشخبری سنا رہے ہیں کہ انھیں پاکستان کی فراخ دلی اور ایکشن کمیٹی کے جائز مطالبات کو مدنظر رکھ کر کے تمام مطالبات تسلیم کر لیے گئے ہیں

 

آج سے تمام کاروبار اور ٹرانسپورٹ کھول دی جائے جبکہ شہدا کی یاد میں تین روزہ سوگ منایا جائے گا جس کے بعد راجہ پرویز اشرف وفاقی وزرا امیر مقام ، احسن اقبال، رانا ثنا اللہ ، سردار یوسف اور طارق فضل چوہدری سمیت دیگر نے بھی پوری کشمیری قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کی

 

اور اس کے بعد وفاقی وزرا سابق وزیر اعظم پاکستان سمیت دیگر مہمانان بذریعہ ہیلی کاپٹر اسلام آباد کے لیے روانہ ہو گے جبکہ مظفرآباد سمیت تمام آزاد کشمیر میں دفاتر، تعلیمی ادارے، ٹرانسپورٹ ، بینکس کھل گئے

 

سڑکوں پر جلا گھیرا کے بعد محکمہ پی ڈبلیو ڈی ، بلدیاتی وترقیاتی اداروں نے صفائی کا عمل شروع کر دیا جبکہ حکومت پاکستان کی جانب سے انٹرنیٹ ، موبائل سروسز دوبارہ بحال کر دی گئیں عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور سڑکوں پر عوام خوشی مناتے نظر آئے

 

 

 

 

 

 

Comments are closed.