پاکستان کی صنعتی قوتوں کو قومی گریجویٹ انجینئر ٹرینی پروگرام کیلئے متحرک کرنے میں پی ای سی کا اہم اقدام
کراچی(کشمیر ایکسپریس نیوز) پاکستان انجینئرنگ کونسل (پی ای سی) نے گریجویٹ انجینئر ٹرینی (جی ای ٹی) پلیسمنٹ پروگرام کو بڑے پیمانے پر شروع کرنے کے لیے ملک کے نمایاں سرکاری اور نجی اداروں کے ساتھ اسٹریٹجک مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) پر دستخط کیے۔ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کی تقریب کے انعقاد کی صدارت چیئرمین پاکستان انجینئرنگ کونسل انجینئر وسیم نذیر نے کی۔ تقریب میں وائس چیئرمین سندھ انجینئر مختار شیخ، پی ای سی کی گورننگ باڈی کے اراکین، سینئر پی ای سی حکام اور شراکت دار اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔
تقریب میں پاکستان کے اہم قومی اداروں اور صنعتی شعبے کی قیادت نے شرکت کی، جس سے اس بات کا واضح پیغام ملا کہ صنعت نے انجینئرز کی تیاری، تربیت اور عملی میدان میں تعیناتی کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے پی ای سی کے ساتھ مکمل ہم آہنگی اختیار کر لی ہے۔ سرکاری شعبے کے شراکت داروں میں پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی، کراچی پورٹ ٹرسٹ، نیشنل ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ انسٹی ٹیوٹ، کراچی شپ یارڈ اینڈ انجینئرنگ ورکس، پاکستان مشین ٹول فیکٹری اور ڈی ایچ اے پاکستان شامل ہیں، جو ملک کے ہوا بازی، بحری، دفاعی اور انفراسٹرکچر نظام کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔
نجی شعبے کے شراکت داروں میں دیوان سیمنٹ، ایچ نظام الدین اینڈ سنز، میک پاور، السونز انڈسٹریز، ہاربن الیکٹرک، سائنرجیکو، پاکستان کیبلز، یونس ٹیکسٹائل ملز اور اِن باکس بزنس ٹیکنالوجیز شامل ہیں، جو توانائی، مینوفیکچرنگ، آئی سی ٹی، ٹیکسٹائل اور صنعتی جدت کے مختلف شعبوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان تمام اداروں نے پی ای سی کے قومی فریم ورک کے تحت نوجوان انجینئرز کو عملی صنعتی تربیت، پیشہ ورانہ رہنمائی اور کارکردگی پر مبنی کیریئر گرومنگ فراہم کرنے کے لیے اپنے پلانٹس، منصوبے اور آپریشنز کھولنے کا باقاعدہ اعلان کیا ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پی ای سی انجینئر وسیم نذیر نے کہا کہ گریجویٹ انجینئر ٹرینی (جی ای ٹی) پلیسمنٹ پروگرام ایک منظم اور مکمل طور پر پی ای سی کے فنڈ سے چلنے والا پروگرام ہے، جس کا مقصد نئے فارغ التحصیل انجینئرز کو عملی میدان کا حقیقی تجربہ اور پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام تعلیمی اداروں اور صنعت کے تقاضوں کے درمیان موجود خلا کو پُر کرے گا اور نوجوان انجینئرز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور روزگار کے مواقع میں نمایاں بہتری لائے گا۔ چیئرمین پی ای سی نے مزید بتایا کہ جی ای ٹی پروگرام کے پہلے بیچ کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے، جس کے تحت ملک بھر کے 40 قومی اداروں میں 600 نوجوان انجینئرز کو تعینات کیا گیا ہے، جو انجینئرز کے لیے منظم پوسٹ گریجویشن تربیت کے قیام کی جانب ایک اہم سنگِ میل ہے۔
پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل ایئر وائس مارشل (اے وی ایم) ذیشان سعید نے پی ای سی کی قیادت کو سراہتے ہوئے جی ای ٹی پروگرام کو “انجینئرنگ کے شعبے میں قومی سرمایہ کاری” قرار دیا اور چیئرمین پی ای سی کو یادگاری شیلڈ پیش کی۔ کراچی پورٹ ٹرسٹ کے جنرل منیجر ریئر ایڈمرل کاشف منیر نے اس اقدام کے لیے کے پی ٹی کی مکمل ادارہ جاتی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ صنعت کی شمولیت ایک ہنر مند اور انڈسٹری ریڈی انجینئرنگ ورک فورس کی تیاری کے لیے ناگزیر ہے۔ سرکاری اور نجی شعبے کے کلیدی اداروں کے پی ای سی کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے سے جی ای ٹی پروگرام ایک قومی تحریک کی شکل اختیار کر چکا ہے، جو انجینئرنگ گریجویٹس کو پیشہ ور اور صلاحیت کو قومی طاقت میں تبدیل کر رہا ہے۔

Comments are closed.