ڈسٹرکٹ بارایسوسی ایشن کوٹلی کےعہدیداران نےحلف اٹھالیا 

ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کوٹلی کے نو منتخب عہدیداران نے حلف اٹھا لیا

 

کوٹلی (کشمیر ایکسپریس نیوز)وزیراعظم آزاد حکومتِ ریاست جموں و کشمیر راجہ فیصل ممتاز راٹھور نے کہا ہے کہ وکلا کے توسط سے ہی عوام کو انصاف میسر آتا ہے اور ایک مضبوط عدالتی نظام ہی معاشرے میں توازن اور استحکام پیدا کرتا ہے۔

 

حکومت تمام طبقات کو ساتھ لے کر چلنے پر یقین رکھتی ہے اور سسٹم کی مضبوطی ہی مسائل کے پائیدار حل کی ضمانت ہے۔ وہ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کوٹلی کی تقریبِ حلف برداری سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کر رہے تھے۔

 

تقریب میں صدر پاکستان پیپلزپارٹی آزاد کشمیر چوہدری محمد یاسین، وزرا کرام جاوید اقبال بڈھانوی، وزیر اطلاعات و اوقاف چوہدری محمد رفیق نئیر، وزیر مال چوہدری محمد اخلاق، سابق سینئر وزیر ملک محمد نواز، سابق وزیر سردار فاروق سکندر، میئر بلدیہ کوٹلی چوہدری محمد تاج، چیئرمین ضلع کونسل، کمشنر، ڈی آئی جی، سابق ججز، وکلا اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

 

وزیراعظم نے ڈسٹرکٹ بار کے نومنتخب عہدیداران سے حلف لیا۔وزیراعظم راجہ فیصل ممتاز راٹھور نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمارے معاشرے میں اخلاقیات اور روایات کا کلچر آج بھی زندہ ہے، اگرچہ کچھ عرصے سے ماحول میں تبدیلی ضرور آئی ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں کوئی اشرافیہ یا لینڈ لارڈ نہیں، یہاں ایم ایل اے عوام کے ووٹ کی طاقت سے اسمبلی پہنچتا ہے۔ یہ وہ نظام ہے جسے ہم نے مل کر تشکیل دیا اور اسی نظام کی بدولت آج پہاڑوں کی چوٹیوں تک سڑکوں اور بجلی جیسی سہولیات پہنچ چکی ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ گزشتہ کچھ عرصے میں سیاسی خلا کی وجہ سے سڑکوں پر حقوق کی بات ہوئی، مگر نظام کو درست کرنے کا راستہ ووٹ کی پرچی سے ہو کر گزرتا ہے۔

 

آج ایک مرتبہ پھر افراتفری کی بات کی جا رہی ہے، حالانکہ افراتفری اس وقت ہوتی ہے جب کسی کی بات نہ سنی جائے۔ آپ ہمارے بھائی ہیں، ہمارے ساتھ چلیں، ترقی کی طرف بڑھیں اور نوجوانوں کو روزگار دینے کی راہ ہموار کریں۔

 

دونوں اطراف ہونے والا جانی نقصان ہمارا اپنا نقصان ہے اور ہم مزید جانوں کے ضیاع کے متحمل نہیں ہو سکتے۔وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کے پاس محدود مدت ہے، اس دوران ہم مکمل تبدیلی تو نہیں لا سکتے

 

البتہ ترقی کی سمت کا تعین اور مسائل کے حل کی بنیاد ضرور رکھ سکتے ہیں۔ حکومت نے کسی معاملے پر ہٹ دھرمی کا مظاہرہ نہیں کیا، اے جے کے بنک کی ایکویٹی مکمل کی گئی ہے جبکہ ہیلتھ کارڈ بھی دوبارہ فعال ہو رہا ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ حکومت کو جو تھوڑا سا وقت ملا ہے اس میں امن اور ترقی کا راستہ کھول کر، عوام کا اعتماد بحال کر کے رخصت ہوں گا۔

 

انہوں نے کہا کہ آزاد خطے میں خوشحالی کے لیے سیاحت کو فروغ دینا ہوگا اور سرکاری نوکریوں کے بجائے ترقی کے متبادل مواقع پیدا کرنا ہوں گے۔

 

یہ کوئی ہائبرڈ نہیں بلکہ مکمل طور پر سیاسی اور جمہوری حکومت ہے اور اس ریاست میں ترقی کا بے پناہ پوٹینشل موجود ہے۔ وزیراعظم نے ڈسٹرکٹ بار کوٹلی کے لیے 30 لاکھ روپے کی گرانٹ دینے اور ایک ہفتہ سروس ٹریبونل کے مقدمات کوٹلی میں ہی سماعت کے لیے لگانے کا اعلان بھی کیا۔

 

صدر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کوٹلی سردار آفتاب انجم نے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ کوٹلی میں ہائی کورٹ سرکٹ بینچ اور سروس ٹریبونل قائم کیا جائے، جدید جوڈیشل کمپلیکس تعمیر کیا جائے،

 

وکلا کی رہائش کے لیے کالونی بنائی جائے، ہارٹ سینٹر اور کینسر ہسپتال قائم کیا جائے اور ڈی ایچ کیو ہسپتال میں دو سو بیڈز کا اضافہ کیا جائے۔

 

صدر پاکستان پیپلزپارٹی آزاد کشمیر چوہدری محمد یاسین نے اپنے خطاب میں کہا کہ وکلا معاشرے کا ایک اہم اور باوقار طبقہ ہیں جو انصاف کی فراہمی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ جمہوریت کے استحکام اور عوامی حقوق کی جدوجہد میں وکلا کا کردار ہمیشہ تاریخی رہا ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح اور قائدِ عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو بھی وکیل تھے جنہوں نے اپنی قانونی بصیرت کے ذریعے قوم کی مؤثر رہنمائی کی۔آخر میں تقریب کے اختتام چیرمین ملک فیض اور ظفر رولوی ایڈووکیٹ کے لئے دعائے مغفرت کی گئی۔

Comments are closed.