بھارتی نام نہاد یومِ جمہوریہ مسترد، آزاد کشمیر میں یومِ سیاہ، حقِ خودارادیت کا دوٹوک مطالبہ
مظفرآباد(کشمیر ایکسپریس نیوز)26 جنوری بھارت کے نام نہاد یوم جمہوریہ کو آزاد کشمیر میں “یوم سیاہ” کے طور پر منایا گیا۔ آزاد جموں وکشمیر لبریشن سیل اور کل جماعتی حریت کانفرنس کے زیر اہتمام دارلحکومت مظفرآباد میں احتجاجی جلسے کا انعقاد کیا گیا۔
احتجاجی جلسے میں سابق وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان، آل پارٹیز حریت کانفرنس کے سیکرٹری جنرل ایڈووکیٹ پرویز احمد شاہ، ترجمان حکومت آزادکشمیر شوکت جاوید میر، سیکرٹری جموں وکشمیر لبریشن سیل و کشمیر کاز انصر یعقوب، کمشنر مظفرآباد ڈویژن چوہدری گفتار حسین، ضلعی آفیسران، مہاجرین نمائندہ فورم کے عہدیداران، سیاسی و سماجی رہنماؤں، وکلاء، صحافی، خواتین اور سول سوسائٹی کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔
اس موقع پر سابق وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان نے احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئےکہا کہ اقوام متحدہ کی قراردادیں کشمیریوں کو یہ حق دیتی ہیں کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ استصواب رائے سے خود کریں، بھارت کی جانب سے تسلسل کے ساتھ ان قراردادوں سے انحراف اور کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے لئے اگست 2019 کے غیر قانونی اقدامات کی ہم مذمت کرتے ہیں۔
ہندوستان کے نیشنل سیکیورٹی کے ایڈوائزراجیت ڈول کے تاریخ سے بدلہ لینے کا بیان خطے میں بھارت کےتوسیع پسندانہ عزائم کا عکاس ہے جس سے ہمیں خبردار رہنا ہو گا، مہاجرین جموں وکشمیر کے حقوق پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کریں گے، حکومت مہاجرین کے مسائل کے حل کیلئے فوری اقدامات کرے۔
کشمیری اتفاق رائے سے تحریک آزادی کشمیر کی کامیابی اور الحاق پاکستان کیلئے آگے بڑھیں گے۔ بھارت میں کشمیریوں پر ہندوستان کے مظالم اور حریت قیادت پر مسلسل قیدوبند کی صعوبتوں کی مذمت کرتے ہیں،
جموں وکشمیر لبریشن سیل کی مسئلہ کشمیر کو قومی و بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کے حوالے سے گراں قدر خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، حکومت آزاد جموں و کشمیر تحریک آزادی کشمیر کا بیس کیمپ ہے بھارت کے غاصبانہ قبضے کے خلاف جموں وکشمیر کے عوام کشمیر کی آزادی تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل آل پارٹیز حریت کانفرنس ایڈووکیٹ پرویز احمد شاہ نے کہا کہ چئیرمین آل پارٹیز حریت کانفرنس غلام محمد صفی کی طرف سے میں تمام شرکاء کا شکریہ ادا کرتا ہوں، 1949 کو جب ہندوستان کا آئیں بنا مقبوضہ کشمیر کی نمائندگی موجود نہیں تھی،
1952 میں کٹھ پتلی سیاسی جماعت نیشنل کانفرنس کے ذریعے اس آئین کو خطے پر لاگو کرنے کیلئے ترمیم کے ساتھ 35 اے اور آرٹیکل 137 نافذ کئے گئے جس کے تحت مقبوضہ جموں وکشمیر کو خصوصی حیثیت دی گئی۔
مقبوضہ جموں و کشمیر میں تمام بنیادی حقوق سلب کئے گئے ہیں، ہندوستان جواہر لعل نہرو کی قراردادوں سے رو گردانی کر رہا ہے، ہندوستان نے غیر قانونی اقدامات سے اپنے آئین میں مقبوضہ جموں وکشمیر کو دی گئی خصوصی حیثیت کو ختم کیا۔
پاکستان کشمیریوں کا محسن اور دوست ہے جو کشمیر کا فیصلہ کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق کرنا چاہتا ہے جبکہ بھارت کشمیریوں کا ازلی دشمن ہے جو کشمیر پر غیر قانونی اور جبری قبضہ کرنا چاہتا ہےکشمیر کی تینوں اکائیاں پاکستان کے ساتھ الحاق چاہتی ہیں۔
ہندوستان کشمیر کو اٹوٹ انگ کہ کر اس پر غیر قانونی قبضہ کرکے کشمیریوں پر مظالم ڈھا رہا ہےجبکہ پاکستان نے اپنے آئین میں کشمیر کا فیصلہ خالصتا کشمیری عوام پر رکھا ہے۔ پاکستان ہمارا دوست ہے اور بھارت قاتل، غاصب ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کے شکر گزار ہیں کہ مہاجرین جموں وکشمیر کے مسائل حل کئے۔
چالیس ہزار مہاجرین کی آباد کاری کیلئے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ مہاجرین کوٹہ پر نظر ثانی کی جائے اور کوٹہ بحال کیا جائے۔ مسئلہ کشمیر ختم کرنے کا تاثر درست نہیں ،
کشمیریوں کی آزادی کی تحریک کشمیر کی آزادی تک جاری رہے گی اور اپنا حق حق خودارادیت کے حصول کے لئے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
ہم اقوام عالم سے اپیل کرتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے ہندوستان، پاکستان اور کشمیری قیادت کے ساتھ بامعنی مذاکرات کرائے جائیں تاکہ مسئلہ کشمیر کا حل نکال کر خطے میں دیر پا امن قائم کیا جا سکے۔
ترجمان حکومت آزادکشمیر شوکت جاوید میر نے کہا کہ آج میں اس جم غفیر میں موجود ہر طبقے کے افراد کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، حریت قیادت کو پابند سلاسل، پانچ اگست 2019 کے غیر قانونی اقدامات بالخصوص آرٹیکل 35 اے کو معطل کر کے کشمیریوں سے ان کی شناخت چھینی،
بھارت نے نام نہاد آپریشن سندور کی آڑ میں جب پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھا تو دنیا نے دیکھا کیسے فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کی قیادت میں آپریشن بنیان مرصوص کے ذریعے بھارت کو دھول چٹائی اور ذلت آمیز شکست سے دوچار کیا۔
آپریشن بنیان مرصوص کے دوران کامیابی کو دنیا نے تسلیم کیا اور مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی مسئلہ قراردیا۔
ڈائریکٹر کشمیر کلچرل اکیڈمی ڈاکٹر راجہ محمد سجاد نے سابق وزیر اعظم آزادکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان، آل پارٹیز حریت کانفرنس کے سیکرٹری جنرل پرویز احمد شاہ، سیکرٹری کشمیر کاز انصر یعقوب، کمشنر مظفرآباد ڈویژن چوہدری گفتار حسین، ترجمان وزیراعظم آزادکشمیر شوکت جاوید میر، نمائندہ مہاجرین فورم کے عہدیداران، سیاسی وسماجی رہنماؤں اور سول سوسائٹی کو بڑی تعداد میں احتجاجی جلسے میں شرکت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے نام نہاد یوم جمہوریہ کے موقع پر احتجاج کا مقصد دنیا کو باور کرانا ہے کہ ہندوستان کی جمہوری اقدار کا اطلاق صرف بھارت میں مقیم ہندوؤں پر ہوتا ہے،
بھارت نہ صرف مقبوضہ کشمیر کی عوام کے بنیادی حقوق کو پامال کر رہا ہے بلکہ دیگر اقلیتوں جن میں سکھ، دلت، کرسچن شامل ہیں کے حقوق بھی سلب کئے ہوئے ہے، جب تک ہندوستان کشمیریوں کو ان کا بنیادی حق حق خودارادیت نہیں دیتا کشمیری بھارت کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
چئیرمین مہاجرین نمائندہ فورم غلام حسن بٹ نے کہا کہ 26 جنوری نام نہادیوم جمہوریہ ہندوستان کے موقع پر ہم یہ پیغام دیتے ہیں کہ ہندوستان کوئی جمہوری ملک نہیں ہے،
کشمیریوں پر کئی دہائیوں سے مظالم ڈھا رہا ہے، دو ایٹمی ممالک کے درمیان یہ تنازعہ کسی بھی وقت خطرناک شکل اختیار کر سکتا ہے، ہندوستان نے خود ساختہ آپریشن کی آڑ میں پاکستان پر جنگ مسلط کی جس کے جواب میں پاک افواج نے ایسا سبق سکھایا جس کو دیکھ کر دنیا حیران رہ گئی۔ انشاءاللہ کشمیر کی آزادی تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
آج کے اس موقع پر میں نوجوانوں کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ پاکستان اور پاک افواج کے خلاف دشمن کے پروپیگنڈہ کا حصہ نہ بنیں، جس طرح پاک فوج کے جوان ملکی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کیلئے بر سر پیکار ہے ہم نے قومی، نظریاتی و فکری لحاظ سے اپنا دفاع کرنا ہو گا۔
آج ہم پونے دو کروڑ کشمیریوں کو حق خودارادیت دلانے کے لیے اقوام عالم کو انتباہ کر تے ہیں کہ اگر مسئلہ کشمیر کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق پرامن حل نہ نکالا گیا تو یہ دو ایٹمی ممالک کے درمیان خطرناک جنگ کی صورت اختیار کرے گی۔
احتجاجی جلسے میں مقررین نے بھارت کی نام نہاد جمہوریت کو مسترد کرتے ہوئے کشمیریوں کو ان کاحق خود ارادیت دلانے کا مطالبہ کیا۔ احتجاجی جلسے کے اختتام پر بھارت مخالف ریلی نکالی گئی۔
ریلی کے شرکاء نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر کشمیریوں کی آزادی کے حق اور بھارت کے غاصبانہ قبضے کے خلاف عبارات درج تھیں۔ ریلی کے شرکاء دنیا سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیر کی آزادی کا مطالبہ کرتے رہے۔
ریلی کے شرکاء “انڈین نام نہاد جمہوریت نا منظور” “ہم کیا چاہتے آزادی” “گو انڈیا گو بیک” “خون رنگ لائے گا انقلاب آئے گا” ” جس کشمیر کو خون سے سینچا وہ کشمیر ہمارا ہے ” بھارتیو غاصبو جموں کشمیر چھوڑ دو ” “we want freedom”, “Terrorist terrorist MODI terrorist” اور “کشمیر بنے گا پاکستان” جیسے فلک شگاف نعرے لگا رہے تھے۔
ہزاروں افراد اقوام متحدہ کے مبصر دفتر کے سامنے اپنا احتجاج ریکارڈ کرنے کیلئے جمع تھے اور حق خودارادیت کے حوالے سے یادداشت پیش کی گئی۔
شرکاء نے بھارت کی جانب سے نام نہاد دنیا کی بڑی جمہوریت کے ڈھونگ کو مسترد کیا اور کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت دلانے کیلئے اقوام عالم سے پرزور مطالبہ کیا۔

Comments are closed.