آزاد کشمیر ہائی کورٹ کا بڑا حکم: صدر کے انتخاب میں تاخیر پر حکومت، سپیکر اسمبلی اور چیف الیکشن کمشنر کو نوٹس جاری،صدر آزاد کشمیر کا انتخاب: آئینی مدت کی خلاف ورزی پر ہائی کورٹ کا لارجر بینچ تشکیل، درخواست سماعت کے لیے منظور
مظفرآباد (کشمیر ایکسپریس نیوز)آزاد جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے صدر ریاست کے انتخاب میں آئینی طور پر مقررہ 30 دن کی مدت کی خلاف ورزی پر دائر کی گئی تحریری درخواست کو باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کر لیا ہے
عدالت العالیہ کے تین رکنی لارجر بینچ جس کی سربراہی جسٹس سید شاہد بہار کررہے تھے نے رجسٹرار ہائی کورٹ کو ہدایت کی کہ فریقین کو نوٹس جاری کیے جائیں، ان سے تحریری جواب، حلف نامہ اور دیگر دستاویزات طلب کی جائیں، اور فائل 20 اپریل 2026 سے پہلے عدالت کے سامنے پیش کی جائے تاکہ اس اہم آئینی معاملے کا فوری فیصلہ ہو سکے۔
عدالت کے تین رکنی بینچ نے درخواست پر ابتدائی سماعت کی درخواست گزار راجہ ذوالقرنین عابد ایڈووکیٹ اور دیگر ممبران سینٹرل بار ایسوسی ایشن مظفر آباد کی جانب سے سید ذوالقرنین رضا نقوی عدالت میں پیش ہوئے نے عدالت کو بتایا کہ آزاد جموں و کشمیر عبوری آئین 1974کے رٹیکل 9کے تحت صدر کے عہدے کی خالی ہونے کی صورت میں 30 دن کے اندر نئے صدر کا انتخاب لازمی ہے
صدر آزادکشمیر بیرسٹر سلطان محمود کی وفات کے بعد جنوری 2026 سے یہ عہدہ خالی ہے لیکن آئینی مدت گزر جانے کے باوجود انتخاب نہیں کرایا گیا، جو آئین کی صریح خلاف ورزی ہے، عدالت نے قرار دیا کہ آرٹیکل 9 کی اصطلاح کو واضح اور مخصوص قرار دیا اور آرٹیکل 56?A کا حوالہ بھی دیا جس میں کہا گیا ہے کہ مدت کی خلاف ورزی سے عمل خود بخود نامناسب نہیں ہو جاتا۔
بینچ نے کہا کہ اس معاملے کی تفصیلی جانچ اور میرٹ پر غور ضروری ہے، اس لیے درخواست باقاعدہ سماعت کے لیے قبول کی جاتی ہے، پٹیشنز کی جانب سے، آزاد حکومت، سپیکر آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی اور چیف الیکشن کمشنر کو فریق بنایا گیا ہے،
ابتدائی سماعت کے دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے درخواست گزاراان کے موقف سے جزوی اتفاق کیا جبکہ پٹیشنزز کے وکیل انتخاب تاخیر کو آئین کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔
