چھ برسوں میں 1,059 کشمیری شہید؛ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی دہشت گردی کی خونریز داستان،دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد کشمیریوں کے وسائل پر قبضہ؛ 2,690 افراد تشدد سے معذور
سری نگر(کے پی آئی) مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فورسز کی دہشت گردی اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا سلسلہ بلا تعطل جاری ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، 5 اگست 2019 کو دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد سے اب تک 1,059 کشمیریوں کو شہید کیا جا چکا ہے، جن میں 22 خواتین بھی شامل ہیں۔
انسانی نقصانات اور وحشیانہ تشددرپورٹ کے مطابق، گزشتہ پانچ سالوں کے دوران قابض فورسز کے وحشیانہ تشدد، پیلیٹ گنز (چھروں) اور آنسو گیس کے بے دریغ استعمال سے 2,690 افراد شدید زخمی ہوئے، جن میں سے کئی مستقل معذوری کا شکار ہو چکے ہیں۔ بھارتی جارحیت کے نتیجے میں 83 خواتین بیوہ جبکہ 232 بچے یتیم ہوئے ہیں۔
جے پی حکومت نے آئینی تبدیلیوں کے بعد کشمیریوں کے مقامی اور قدرتی وسائل پر غیر قانونی قبضہ جما لیا ہے۔ معاشی طور پر کمزور کرنے کی پالیسی کے تحت سینکڑوں سرکاری ملازمین، جن کی اکثریت مسلمان ہے، کو من گھڑت الزامات لگا کر ملازمتوں سے برطرف کر دیا گیا۔،
اگست 2019 سے اب تک کشمیریوں کی سینکڑوں نجی املاک، مکانات، زمینیں، دفاتر اور تعلیمی ادارے (اسکول) ضبط کیے جا چکے ہیں۔مقبوضہ وادی میں اس وقت 3,000 سے زائد افراد کالے قوانین کے تحت پابندِ سلاسل ہیں، جن میں صفِ اول کے حریت رہنما، انسانی حقوق کے علمبردار، صحافی اور تاجر شامل ہیں۔
تہاڑ اور دیگر بھارتی جیلوں میں قید نمایاں رہنماں میں مسرت عالم بٹ، محمد یاسین ملک، شبیر احمد شاہ، آسیہ اندرابی، نعیم احمد خان اور نامور سماجی کارکن خرم پرویز شامل ہیں۔ ان قیدیوں کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور انہیں ضروری قانونی و طبی سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے۔
بھارت کا 5 اگست 2019 کا اقدام اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اس تمام تر فوجی کارروائیوں اور پابندیوں کا واحد مقصد کشمیریوں کی حقِ خودارادیت کی آواز کو طاقت کے زور پر دبانا ہے، جو کہ عالمی برادری کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔
