موسمیاتی وماحولیاتی تبدیلی،قدرت اور ہم

موسمیاتی و ماحولیاتی تبدیلی، قدرت اور ہم

تحریر، رازق بھٹی

گزشتہ 20 سے 25 سال قبل کے دور کو نظر میں رکھ کر دیکھیں تو قدرت کے حکم و نظام کے مطابق موسم بہار کا آغاز فروری کے ابتدا سے ہو جایا کرتا تھا پودوں، درختوں پر کونپلیں نمایاں ہونا شروع ہو جاتی تھیں، گرمی کا موسم اپریل، سردی کاآغاز ستمبر میں ہو جاتا جبکہ اب موجودہ دور میں بہار مارچ کی 10 سے 15 تاریخ گرمی مٸی کی 15 سے 20 تاریخ تک شروع ہوتی ہےقدرت نے موسمیاتی تبدیلی کے اندر ڈیڑھ ماہ کا فرق پیدا کر دیا ہے قدرتی عوامل و حکم کو مد نظر رکھنے کے ساتھ انسان کا ماحولیاتی تبدیلی میں خاطر خواہ عمل دخل ہے جس میں سب سے زیادہ زمین میں موجود قدرتی نظام میں تبدیلی لانا، جس میں زمین کے سٹرکچر یعنی ساخت کو تبدیل کرنا مثال کے طور پر غیرمنصوبہ بندی کے زمین کا کٹاو یعنی قدرتی ساخت میں تبدیلی. کچھ نظر خطہ پوٹھوہار کی زمینی ساخت کو دیکھیں تو زمین کا زیادہ حصہ اونچا نیچا، کٹا پھٹا، کھیت کھلایان، درخت، صاف پانی کے چشمے، ندی نالوں کی زنجیریں، دریا،ذرخیز زمین، جڑی بوٹیاں، مختلف اقسام کےجانور، نباتات و حیوانات، حشرات وغیرہ اور خوبصورت قدرتی ماحول جو قدرتی اصولوں اور ساٸنسی تقاضے پورے کرنے کا ڈھانچہ، بارشوں کا نہ رکنے والا سلسلہ، بہار کے دلکش مناظر، ہری فصلیں، جنگلات جن میں خصوصا بیری کے درخت، جنگلی توت، شہ توت، انجیر، پھگواڑیاں، بوڑ یعنی برگد، ٹالیاں، کیکر، پھلایاں و دیگر درخت جو کہ ماحول کو صاف رکھنے کے ساتھ خوراک مہیا کرنے، آکسیجن کا بڑا ذخیرہ، موسم کی خوشگواری اور دیگر ضروریات کا مرکز تھے، زمین کی ساخت کے اونچے نیچے ہونے کا مطلب و مقصد جب گرم ہوا زیادہ ہو جاتی ہے تو وہ کٹی پھٹی زمین اور درختوں سے گزر کر اوپر کی جانب اٹھتی ہے اس کی جگہ ٹھنڈی ہوا لیتی ہے اور آکسیجن ملی تازہ ہوا میسر ہوتی تھی، جب بارش برستی تو پانی تیز رفتاری کے ساتھ گلی محلوں اور سیوریج نالوں میں نہیں جاتا تھا بلکہ کھیت کھلیانوں، برساتی نالوں، چشموں کے ساتھ مل جاتا زمین میں پانی کا لیول بھی زیادہ ہو جاتا، زمین میں پانی کھڑا رہنے سے زمین گیلی رہتی اور موسم خوشگوار رہتا، بدقسمتی سے اداروں اور حکومتوں کی عدم توجگی اور غیر منصوبہ بندی کے باعث اور زرخیز زمین فروخت کر کے جلد امیر ہونے کی ناقص خواہش نے تمام نظام میں بگاڑ پیدا کر دیا جس کیوجہ سے آج شدید ماحولیاتی و موسمیاتی تبدیلی کا سامنا ہے تقریبا خطہ پوٹھوہار اور ملک میں زرعی زمین کو رہاٸشی سکیموں، ہاوسنگ سوساٸٹیوں، کمرشل پلازوں، مارکیٹوں کی نظر کر دیا گیا ہے، ہر دوسرے گھر، شادی ہالوں، پلازوں، دفاتر میں بڑے چلرز، پلانٹس تقریبا ہر گاڑی میں AC کی موجودگی اور AC کے استعمال کے بعد اس کی گیس جو کہ باہر فضا میں تباہی پھیلا رہی ہے معلومات کے مطابق اسلام آباد شہر میں 5 سے 7 لاکھ تک گاڑیاں روزانہ کی بنیاد پر داخل و خارج ہوتی ہیں جن کا پیٹرول و AC کا استعمال فضاء کر آلودہ کر رہا ہے، AC کے استعمال نے فضاء میں زہریلے مولیکیول لیول کی بھر مار کر دی ہے اور آکسیجن لیول کم ہو چکا ہے اور اب جب زمین کی ساخت کو برابر کر دیاگیا ہے جس کی وجہ سے زمین سے گرین گیس کا نکلنا کم ہو چکا، جہاں زمین کچی ساخت کی تھی وہاں شاہرات کا بنانا اور اس کے ملعقہ علاقوں میں کمرشل سینٹرز، دکانیں ہی دکانیں، اور رہاٸشی سکیموں کی بھر مار، نہ کھیت نہ کھلیان، بارش کا پانی یقینا سیوریج نالوں کی نظر ہو جاۓ گا، تو زمین گرم رہے گی، قدرتی پانی کا ندی نالوں کی بجاے سیوریج نالوں میں تبدیل ہونا، خوبصورت پرندوں کا ختم ہونا یا ہجرت کر جانا پوٹھوہار کو وہ سبز طوطا پنجروں کی نظر اور تقریبأ ختم ہو چکا ہے، مونگ پھلی نایاب ہونے کو ہے، اور بیری کہیں نظر نہیں آ رہی اگر راولپنڈی سے براستہ روات، گجرخان سے جہلم لاہور سفر کرتے تو ہر طرف پانی، درخت سرسوں مکٸی، چاول، گنا نظر آتا تھا لیکن اب صرف دکانیں اور ہاوسنگ سکیموں کے کچھ نظر نہیں آتا، دریا سواں، دریاۓ راوی جو کہ صاف پانی و تازہ مچلھی کا ذخیرہ تھت اب سیوریج ملا کالا پانی ہی رہ گیا ہے، جہاں بھی ملکی ضرورت کے لیے کوٸی شاہرا تعمیر کی جاتی ہے اس کے ارد گرد ہاوسنگ سکیمیں شہد کی مکھیوں کی مانند امڈ آتی ہیں، اگر کچھ نظر دوہڑایں فتح جنگ روڈ، پشاور روڈ، چک بیلی خان روڈ جو کہ روات سے موٹروے کو ملاتا ہے شمال کی جانب تقریبأ تمام زمین ہاوسنگ سکیمیں ہی نظر آتی ہیں اور اب رنگ روڈ کی تعمیر کی وجہ سے جو زمین کا حصہ جنوب کی طرف ہے اور چکوال کو ملاتا ہے اگر حکومت کی جانب سے لینڈ یوٹی لاٸزیشن پالیسی اور منصوبہ بندی نہ کی تو راولپنڈی اور چکوال کا فرق ختم ہونے کے ساتھ ذرخیز زمین کا خاتمہ ہو جاۓ گا جو انتہاٸی سخت تباہی کا منظر ہو گا، اگر موٹر وے( للہ) کو جہلم جی ٹی روڈ کو ملانے والی 126 کلومیٹر شاہرہ کی تعمیر کے بعد بھی حکومت کو ماریکیٹوں کی تعمیر اور رہاٸشی منصوبوں کی تعمیر پر پابندی نہ لگاٸی تو مغرب کی جانب موجود خوبصورت جنگل و ریسرچ سنٹر اور پہاڑی سلسلہ کو تباہ
کر دے گا، (باقی مزید تفصیلات اگلے کالم میں)

Leave A Reply

Your email address will not be published.