مودی راج میں ایک اورمسجد تنازع،کمال مولا مسجدمندر قرار

مودی راج میں ایک اور مسجد تنازع، بھارتی عدالت نے کمال مولا مسجد کو مندر قرار دے دیا

نئی دہلی (کشمیر ایکسپریس نیوز)بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت والی ریاست مدھیہ پردیش میں ہائی کورٹ نے جمعہ کو ہندو درخواست گزاروں کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے دھار میں واقع کمال مولا مسجد، بھوج شالا مندر کمپلیکس کو ہندوؤں کی دیوی سرسوتی سے منسوب مندر قرار دے دیا۔

جسٹس وجے کمار شکلا اور جسٹس آلوک اوستھی پر مشتمل بینچ نے کہا کہ مسلم کمیونٹی ریاستی حکومت سے دھار ضلع میں علیحدہ زمین کے حصول کے لیے رجوع کر سکتی ہے تاکہ مسجد کی تعمیر کی جا سکے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا، ”ہم نے نوٹ کیا ہے کہ اس مقام پر ہندو عبادت کا تسلسل کبھی ختم نہیں ہوا۔

تاریخی لٹریچر کے مطابق متنازعہ مقام بھوجشالہ تھا، جو پرمار خاندان کے راجہ بھوج سے منسلک سنسکرت تعلیم کا مرکز تھا۔’2003ء کے ایک انتظام کے مطابق ہندو اس کمپلیکس میں منگل کے روز صبح سے شام تک پوجا کرتے ہیں۔

بسنت پنچمی کے موقع پر سرسوتی کی پوجا کے لیے بھی اسے کھولا جاتا ہے جبکہ مسلمان جمعے کو بعد دوپہر 1 بجے سے 3 بجے تک وہاں نماز جمعہ ادا کرتے ہیں۔ بھوجشالہ کمپلیکس آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے تحت ایک محفوظ تاریخی یادگار ہے۔

ہندو درخواست گزاروں کا دعویٰ ہے کہ یہ مقام اصل میں دیوی واگدیوی یا سرسوتی کا مندر تھا، جبکہ مسلم فریق کا کہنا ہے کہ یہ ایک مسجد تھی۔ ایک جین درخواست گزار نے بھی یہ دعویٰ کیا کہ یہ عمارت دراصل ایک جین مندر تھا۔

اس سے پہلے عدالت نے تمام فریقوں سے کہا تھا کہ وہ 11ویں صدی کے اس تاریخی کمپلکس پر مارچ سے جون 2024 کے دوران کیے گئے سائنسی سروے کے بعد تیار کی گئی 2,200 صفحات پر مشتمل اے ایس آئی رپورٹ پر اپنے اعتراضات، تجاویز اور سفارشات جمع کرائیں۔عدالت کے آج کے فیصلے کے بعد علاقے میں سکیورٹی سخت کردی گئی اور اضافی فورس تعینات کر دی گئی ہے

Leave A Reply

Your email address will not be published.