مہاجر مقیم پاکستان نشستوں کا مقدمہ اور عامر غفار لون

مہاجر مقیم پاکستان نشستوں کا مقدمہ اور عامر غفار لون ۔۔۔
ملک عبد الحکیم
عوامی ایکشن کمیٹی کے کور ممبرز انقلابیوں نے ایک دن اچانک مطالبہ کیا کہ پاکستان کے زیر انتظام جموں وکشمیر کی قانون ساز اسمبلی سے سری نگر اور جموں کی نمائندگی ختم کر دی جائے ۔۔
کور انقلابیوں نے اپنے بیانیےکے لیے جو دلائل پیش کیے ان میں سے ایک کرپشن کا الزام ہے اور دوسرا حکومتیں گرانے یا بنانے میں مہاجراکان اسمبلی کا کردار ۔۔
کرپشن سے کس کا دامن پاک ہے کس کا نہیں۔ یہ الگ بحث ہے لیکن اہم سوال یہ ہے کہ صرف مہاجر اراکین اسمبلی ہی کرپٹ ہیں ؟
کیا آزاد کشمیر کے تینتیس انتخابی حلقوں کی نمائندہ شخصیات کے ہاتھ صاف ہیں ؟
دوسرا یہ کہ 12 نشستوں کے حامل صرف مہاجر اراکینِ اسمبلی حکومتیں گرانے اور بنانے کےلیے کردار ادا کرتے ہیں۔۔

سٹیج کے سکندروں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ طے شدہ ایجنڈے کے تحت آدھا سچ بولتے ہیں ۔۔

اس خطے میں سارا نظام 1947 میں نظریہ ضرورت کے تحت بنایا گیا ۔۔
شہزادہ کوٹھی سے جنجال ہل اور وہاں سے مظفرآباد ۔۔۔

معاہدہ قائمہ توڑ کر متوازی ڈمی نظام اور پھر اس نظام کو کلرکوں کے ذریعے کنٹرول کرنے کی روش ۔۔۔

رولز آف بزنس کے ذریعے اختیارات واپس لینے کی مشق ۔۔۔

الحاق پاکستان کے بیس کیمپ کو آزادی کا بیس کیمپ قرار دینا ۔۔
ابتدائے عشق سے انتہائے عشق تک ۔۔
وہ پہلی محبت وہ دکھائے اور سجائے گے عظیم خواب سب کچھ وقت کی گرد کا شکار ہوا..
مظفراباد اسلام آباد آئینی اور انتظامی تعلقات جو یکطرفہ تابعداری پر مبنی ہیں… اس پر عوامی سطح پر گفتگو ہونے لگی…
رفتہ رفتہ بات آپ سے میں اور میں سے توں تکرار تک پہنچی ۔۔۔
حساب کتاب کی باتیں ہونے لگیں ۔۔
بوجھ ہیں
ہمارا کھاتے ہیں ۔۔
گرانٹ ان ایڈ کے اعدادوشمار ۔۔۔۔۔
مشتاق گورمانی سے لیکر امیر مقام تک ہر دور کی اپنی داستان ہے ۔۔۔
نئی نسل سب کچھ دیکھ بھی رہی تھی اور سمجھ بھی رہی تھی ۔۔۔۔
جموں کشمیر کے چھے فیصد حصے پر تشکیل دیا گیا غازیوں کا انقلاب پاکستان میں آباد مہاجرین کے مسائل کیا حل کرتا یہاں کے مسائل وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتے گے۔۔۔
بیڈ گورننس قبائلی اور علاقائی تعصبات نے اس خطے کی کم و بیش 30 فیصد آبادی کو معاشی مہاجرت پر مجبور کیا۔۔۔
نتیجتاً آج حالات اس سطح پر آچکے ہیں ہم گرانٹ ان ایڈ پر دست وگریباں ہیں ۔۔۔۔
مہاجر کھا گے ۔۔۔۔
کتنا کھا گے ؟؟؟؟
ڈویلپمنٹ بجٹ کتنا ہے اور اس کا کتنے فیصد مہاجر ارکان کو ملتا ہے ۔۔۔
گزشتہ سال کا ڈویلپمنٹ بجٹ 24 ارب تھا اور مہاجر ارکان کو 24 کروڑ ملا ۔۔۔ یہ مجموعی بجٹ کاایک فیصد ہوا۔۔۔

ایک اور دلیل ہے کہ جو ٹیکس نہیں دیتا وہ ٹیکس کی رقم استعمال نہیں کر سکتا ۔۔۔
بات درست ہے ۔۔
لیکن پیمانہ ایک نہیں ۔۔۔
گرانٹ ان ایڈ کے بارے میں کیا خیال ہے کہ وہ رقم کہاں کے ٹیکس سے جمع ہوتی ہے ۔۔۔
ایک اور الزام یہ سامنے آیاکہ مہاجر حکومتیں بناتے اور گراتے ہیں … یہاں بھی آدھا سچ بتایا جاتا ہے
آئیے جموں کشمیرکے چھے فیصد حصے میں سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے والوں کی فہرست دیکھتے ہیں.. میرپور سٹی سے سلطان محمود چوہدری آزاد مسلم کانفرنس لبریشن لیگ پیپلز پارٹی پیپلز مسلم لیگ پھر پیپلز پارٹی اورتحریک انصاف
کھڑی شریف سے چوہدری ارشد پی پی پی ایم ایل پی پی پی ٹی آئی ..
بھمبر سے سابق وزیراعظم چوہدری انوارالحق پی ایم ایل پیپلز پارٹی پی ٹی آئی اورجب وہ وزیر اعظم تھے ان کا پی ٹی آئی سے تعلق ختم ہو چکا تھا .
سماہنی سے علی شان سونی.ازاد پی پی پھر ازاد پھر پی ٹی آئی اور پھر پی پی
کھوئی رٹہ سے رفیق نیر آزاد مسلم کانفرنس پی پی پی ایم ایل پی پی پی ٹی آئی اور پی پی ..
غربی باغ سے میر اکبر مسلم کانفرنس ن لیگ پی ٹی آئی ن لیگ.
پاچھیوٹ سے سرار صغیر فیملی ایم سی پی ٹی آئی پی پی.
سدھنوتی سے سردار محمد حسین پی پی پی ٹی آئی پھر پی پی .
بلوچ سے ربانی فیملی پی پی پی ٹی آئی اور پھر پی پی .

اپر نیلم گل خنداں فیملی ایم سی پی ٹی آئی اور پی پی
لچھراٹ مظفرآبادسے مرتضی گیلانی ایم سی پی ٹی آئی اور ن لیگ ..لچھراٹ سے ہی چوہدر شہزاد ن لیگ سے پی ٹی آئی پھر نان کسٹم اور اب ن لیگ میں جانے کی اطلاعات ہیں ..
لنگر پورہ سے چوہدری رشید پی پی پی ایم ایل پی پی پی ٹی آئی اور پھر پی پی اور شاید اب ان کی منزل ن لیگ ہے.
خواجہ فاروق لبریشن لیگ پی پی پی ایم ایل پی پی پی ٹی آئی .
چوہدری یوسف خالد مسعود افسر شاہد پرویز اشرف ملک نواز ملک ظفر چوہدری آخلاق عنصرابدالی تنویرالیاس قیوم نیازی سردار یعقوب لطیف اکبر فاروق حیدر سکندر حیات شاہ غلام قادر سمیت کون سا رکن اسملی ایسا جس نے سیاسی وفاداری تبدیل نہیں کی … البتہ سردار عتیق یا ایک دو اور شخصیات ہوں گی جو اپنی جماعت میں رہے …
ریاستی شناخت کے نعرے لگاتے لگاتے ایک دن مسلم کانفرنس کا ایک بڑا دھڑا اچانک پاکستانی سیاسی جماعت مسلم لیگ ن کی ازاد کشمیر برانچ میں تبدیل ہوگیا … یہ ہمارے ہاں سیاسی معیار ہے ..کہا جاتا ہے مہاجر ارکان اسمبلی سیاسی ارتعاش کا باعث ہیں

سیاسی افراتفری اور کرپشن کے الزامات کے پیچھے اصل کہانی کیا ہے یہ سب الزامات اور افواہوں کی زد میں ہے دھند چھٹے گی تو ہم ایکٹ74 کی بحالی کے لیے بیان دے رہے ہوں گے …
پہلے رکن قانون ساز اسمبلی عامر غفار لون کا مقدمہ دیکھتے ہیں ۔۔۔
عامر غفار لون اس بات پر رنجیدہ ہے کہ بغیر ثبوت کے کرپشن کے الزامات لگا کر دیانت دار مہاجر ارکان اسمبلی کی توہین کی جارہی ہے۔جو مہاجر ارکان کرپٹ ہیں ان کے خلاف قانون حرکت میں آنا چاہیے ۔۔
عامر غفار لون کا یہ کہنا تھا نشستیں باقی رہیں یا ختم کر دی جائیں مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن جھوٹے الزامات ناقابلِ برداشت ہیں ۔
حقیقت یہ ہے جہاں کرپشن سیاستدان اور اعلیٰ بیوروکریسی لازم و ملزوم ہیں وہاں عامر غفار احمد رضا قادری حسن ابراہیم جاوید بڈھانوی سمیت درجن کے قریب ارکان ایسے بھی ہیں جو بدترین نظام کا حصہ ہونے کے باوجود لوٹ مار میں ملوث نہیں ۔۔۔
عامر غفار شاید مہاجر ارکان میں واحد رکن اسمبلی ہے جس نے بلا تخصیص اپنے حلقہ انتخاب کے مہاجرین کی مسائل کے حل کی آنرشپ لی ہوئی ہے ۔۔۔تعلیم صحت شادی بیاہ عید اور دیگر خوشی اور غم کے ہر موقع پر لوگوں کی فیملی کی طرح دیکھ بحال کرنا۔۔جیب سے مکان خرید کر دنیا سولر سسٹم ٹیوب ویل لگا کر دینا ہر ضرورت مند خاندان کی بچیوں کو جہیز فنڈ دینا ولیمے کا اہتمام کرنا میٹرک انٹر اور یونیورسٹی کی سطح تعلیمی معاونت ۔۔۔۔
جو رکن اسمبلی لوکل گورنمنٹ کی طرف سے جاری کردہ فنڈز سے زیادہ سالانہ ٹیکس دیتا ہو جس کی صوابدید پر دس سال میں 16 کروڑ 33 لاکھ روپے کے ترقیاتی فنڈز دیے گے ہوں اور وہ چیلنج کرے کہ اس نے اس عرصے میں تیس کروڑ سے زائد کا ترقیاتی کام کروایا ہے.۔۔۔
خدمات کا یہ قابلِ تقلید عمل ہمارے ان دوستوں کی نظروں سے اوجھل ہے جو چٹ پٹے الزامات کے سہارے ڈائس پر کھڑے ہو کر تالیاں بجوانے کو لیڈری سمجھتے ہیں
بہت سے انتخابی حلقوں میں بدترین مالی بد عنوانیاں یقیناً ہیں لیکن ایک دوسرا پہلو یہ بھی ہے ۔۔۔

اب رہا سوال ان نشستوں کا مسئلہ جموں کشمیر سے کیا تعلق ہے ؟
ایک طبقے کا یہ خیال ہے ان نشستوں کا مسئلہ جموں وکشمیر سے کوئی تعلق نہیں ۔۔
کچھ احباب کی رائے ہے یہ نشستیں جموں و کشمیر کے حوالے سے پاکستان کے مقدمے کی روشنی میں ناگزیر ہیں ۔۔۔
کچھ کا یہ خیال ہے جب یہ نشستیں نہیں تھیں تب بھی مسئلہ جموں وکشمیر تھا لہذا ان کے ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑٹا۔۔۔
کچھ کا خیال ہے 5 اگست 2019 کے بھارتی اقدام کے بعد ان نشستوں کا وجود باقی رکھنا لازم ہے۔۔۔
عوامی ایکشن کمیٹی جس کی طرف سے یہ مطالبہ جہدوجہد کے تیسرے سال 38 ویں نمبر پر لکھا گیا اور پھر پہلے نمبر پر آگیا ؟
کیا یہ مطالبہ اس خطے کا تفویض شدہ نظام لپیٹنے کے لیے ہے ۔۔۔؟؟؟
غیر سیاسی جہدوجہد کے دعویدار کور ممبرز کسی اسکرپٹ کے تحت یہ سیاسی مطالبہ کر رہے ہیں
سوالات اپنی جگہ موجود ہیں۔ نشستیں رہیں یا ختم ہوں، ان کی آئینی، سیاسی اور تاریخی حیثیت پر بحث بھی جاری رہے گی۔ لیکن اس تمام شور، نعروں، الزامات اور سیاسی تکرار کے بیچ ایک حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ عامر عبدالغفار لون جیسے لوگ بھی اسی نظام کا حصہ ہیں، جو برسوں سے کسی نمود و نمائش، کسی تحسین و ستائش اور کسی سیاسی کاروبار سے بالاتر ہو کر اپنے ووٹروں نہیں بلکہ اپنی پوری کمیونٹی کی خدمت کر رہے ہیں۔
ایسے لوگوں کو محض ایک سیاسی مقدمے کی نذر کر دینا یا انہیں اپنی ہی ریاست سے لاتعلق ثابت کرنے کی کوشش شاید کوئی دانشمندانہ یا احسن اقدام نہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.