راولپنڈی (کشمیر ایکسپریس نیوز)وزیرِ زراعت پنجاب سید محمد عاشق حسین کرمانی نے بارانی زرعی یونیورسٹی کے سولرائزیشن منصوبے کا افتتاح کیا اور یونیورسٹی کی اختراعی اور پائیدار ترقی کی کاوشوں کو سراہا*
وزیرِ زراعت پنجاب سید محمد عاشق حسین کرمانی نے سیکرٹری زراعت پنجاب افتخار علی سہو کے ہمراہ پیر مہر علی شاہ بارانی زرعی یونیورسٹی راولپنڈی میں جدید شمسی توانائی (سولرائزیشن) منصوبے کا افتتاح کیا۔
اس منصوبے کو انھوں نے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں قابلِ تجدید توانائی کے فروغ، ماحولیاتی تحفظ اور توانائی کے مؤثر استعمال کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔ انہوں نے یونیورسٹی کی جانب سے ماحول دوست جدید ٹیکنالوجیز کے فروغ اور گرین انرجی کے عملی نفاذ کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ سولرائزیشن منصوبہ دیگر تعلیمی اداروں کے لیے بھی ایک مثالی نمونہ ہے۔
افتتاحی تقریب کے بعد پنجاب کے وزیرِ زراعت پنجاب سید محمد عاشق حسین کرمانی کی زیرِ صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں یونیورسٹی کے جاری ترقیاتی منصوبوں، تحقیقی سرگرمیوں اور مستقبل کی حکمتِ عملی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران وزیر زراعت نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر قمر الزمان کے وژن کو سراہتے ہوئے یونیورسٹی کے اساتذہ اور انتظامی ٹیم کی محنت کو خراجِ تحسین پیش کیا، جن کی کاوشوں سے متعدد مؤثر تعلیمی، تحقیقی اور ترقیاتی منصوبے کامیابی سے مکمل کیے جا رہے ہیں۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ زراعت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومتِ پنجاب، بالخصوص محکمہ زراعت پنجاب، صوبے کی زرعی جامعات کی ہر ممکن سرپرستی جاری رکھے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ زرعی تحقیق کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور جامعات اور محکمہ زراعت کے درمیان تحقیقی اشتراک کو مزید مضبوط بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر قمر الزمان نے یونیورسٹی کی مجموعی کارکردگی، جاری منصوبوں اور مستقبل کے ترقیاتی وژن پر ایک جامع بریفنگ دی۔ انہوں نے زرعی تعلیم، تحقیق، اختراع، انٹرپرینیورشپ اور کمیونٹی سروس کے فروغ کے لیے یونیورسٹی کی مختلف کاوشوں سے آگاہ کیا۔
وائس چانسلر نے وزیر زراعت کو فیکلٹی ڈویلپمنٹ پروگرام ٹریننگ آف ٹرینرز، دیہی کاروباری ترقی اور معاشی خودمختاری کے لیے موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ مونگ پھلی کی ویلیو چین ڈویلپمنٹ منصوبے، فارمرز کال سینٹر اور زرعی مشاورتی سروس، نیز بزنس انکیوبیشن سینٹر کو مزید مؤثر بنا کر اسے ایک جدید ایگری انٹرپرینیورشپ ہب میں تبدیل کرنے کے اقدامات سے بھی تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔
اس موقع پر سیکرٹری زراعت پنجاب افتخار علی سہو نے یونیورسٹی کے تحقیقی ماحول، تعلیمی معیار اور جدید علمی سرگرمیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ محکمہ زراعت پنجاب صوبے کی تمام زرعی جامعات کے ساتھ اپنے اشتراک کو مزید وسعت دے رہا ہے، جس کے نتیجے میں مشترکہ تحقیقی و ترقیاتی منصوبے کامیابی سے مکمل ہو رہے ہیں۔
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ مستقبل میں بھی یہ باہمی تعاون زرعی شعبے کی ترقی، جدید ٹیکنالوجی کے فروغ اور کسانوں کی خوشحالی میں اہم کردار ادا کرے گا۔
