پاکستان اور برطانیہ کے تعلقات کو مضبوط بنانے میں پارلیمانی تعاون کلیدی کردار ادا کرسکتا ہے،اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق
برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کی اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے ملاقات
اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ پاکستان اور برطانیہ کے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پارلیمانی تعاون کو فروغ دینا نہایت اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان برطانیہ کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کو عزیز رکھتا ہے اور مشترکہ ترقی کے لیے پارلیمانی سطح پر مضبوط رابطے ضروری ہیں۔ یہ بات انہوں نے پارلیمنٹ ہاؤس میں پاکستان میں تعینات برطانوی ہائی کمشنر مس جین میریٹ سے ملاقات کے دوران کہی۔
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے پارلیمنٹ کو جدید بنانے کے لیے کیے گئے اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ “یہ دنیا کی پہلی پارلیمنٹ ہے جو مکمل سولرائزیشن کے ذریعے ‘گرین پارلیمنٹ’ میں 2015 میں تبدیل ہوئی ہے
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ تین ماہ کے پارلیمانی انٹرن شپ پروگرام کے لیے 60,000 سے زائد درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں سے میرٹ، جنڈر انکلوسیوٹی اور اقلیتوں اور بڑے جامعات کی نمائندگی کو یقینی بناتے ہوئے 200 سے زائد انٹرنز کا انتخاب کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ “جمہوری عمل میں نوجوانوں کو بامقصد پارلیمانی تجربے سے جوڑنا انتہائی ضروری ہے۔”
انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کے تمام عملے کے انٹرویوز ان کی ذاتی نگرانی میں لیے گئے تاکہ بہتر وسائل کی منصوبہ بندی کی جا سکے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے 1,400 سے زائد ملازمین سے ذاتی ملاقات کر کے ان کے مسائل کو سنا اور ان کی بہبود کو یقینی بنایا۔ پارلیمانی عملے کو مصنوعی ذہانت (AI) اور انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی (ICT) کی تربیت بھی دی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ “اگرچہ AI کے کچھ چیلنجز ہیں، لیکن اس کے فوائد بہت اہم ہیں۔”اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا کہ 2014 میں قائم کی گئی قانون ساز کونسل، پارلیمانی کمیٹیوں کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔کمیٹیوں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے تکنیکی عملہ تعینات کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ “پہلے پرائیوٹ ممبرز بلز کو نظرانداز کر دیا جاتا تھا، لیکن اب انہیں متعلقہ کمیٹیوں کے حوالے کیا جاتا ہے”، یہ بھی بتایا کہ قانون سازی کے تجاویز تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ شیئر کی جاتی ہیں تاکہ جامع جائزہ لیا جا سکے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پہلی بار قومی اسمبلی کی فنانس کمیٹی وفاقی بجٹ 2025-26 کا جائزہ لے رہی ہے، جو ادارہ جاتی نگرانی کو مضبوط بنانے کی طرف ایک اہم قدم ہے۔
اسپیکر نے آبادی میں اضافے اور معاشی و سماجی عدم مساوات کو اہم چیلنجز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے لیے مربوط اور مستقبل بین پالیسیوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ہائی کمشنر کو 18ویں اسپیکرز کانفرنس کی کامیابی سے آگاہ کیا، جس کا مقصد وفاقی اور صوبائی اسمبلیوں کے درمیان قانون سازی کے عمل کو ہم آہنگ کرنا تھا۔
نیز، پبلک اکاؤنٹس کمیٹیز (PACs) کے اتحاد کے قیام کو قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دینے میں ایک سنگ میل قرار دیا۔ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے زور دے کر کہا کہ پاکستان ہمیشہ امن اور تحمل کی پالیسی پر کاربند رہا ہے، جیسا کہ حالیہ پاک بھارت جنگ میں پاکستان کی فتح سے واضح ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ “عالمی امن ناگزیر ہے، کیونکہ تنازعات اور جنگوں سے سب سے زیادہ عام آدمی متاثر ہوتا ہے۔”
برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے اسپیکر کے جامع اور مشاورتی اندازِ کار کی تعریف کی، خاص طور پر تمام سیاسی جماعتوں کو قانون سازی کے عمل میں شامل کرنے کی کوششوں کو سراہا۔
انہوں نے پاکستان کی پائیدار ترقی کےلئے گے اقدامات کی بھی تعریف کی اور پارلیمانی تجربات کے تبادلے کو قانون سازی کو مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا۔ انہوں نے تعلیم، موسمیاتی تبدیلی اور سماجی ترقی کے شعبوں میں پاکستان کو برطانیہ کی مسلسل تعاون کا یقین دلایا۔

Comments are closed.