اقتدارنہیں،ریاست کوبچانے کابوجھ اٹھایاہے،فیصل راٹھور

اقتدارنہیں،ریاست کوبچانے کابوجھ اٹھایاہے،فیصل راٹھور

اسلام آباد (کشمیر ایکسپریس نیوز) آزادجموں و کشمیر کے وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے کہا ہے کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بےنظیر بھٹو کے نظریات کی روشنی میں پیپلز پارٹی آزادکشمیر کی حکومت نے صرف 60 دن میں سیاسی نظام پر عوام کا اعتماد بحال کر دیا ہے جسے میں سب سے بڑی کامیابی سمجھتا ہوں ۔

 

افراتفری ،انارکی اور عدم تحفظ کا احساس ترقی کی سب سے بڑی دشمن ہے ، ریاست میں امن و امان کی بحالی عوام کی طاقت سے کی ہے جس سے ترقی کی راہ ہموار ہو گی ۔

 

چیف الیکشن کمشنر کے معاملے پر اپوزیشن لیڈر کے ساتھ مشاورت کا عمل مکمل کر لیا ہے جلد ہی متفقہ نام وزیراعظم پاکستان کو ارسال کر دئیے جائیں گے ۔

 

7 ارب روپے کی لاگت سے آوٹ آف چلڈرن سکول پروگرام گیم چینجر منصوبہ ہے جس سے ریاست کے بچوں کو علم کے مواقع حاصل ہونگے ۔نیلم ،باغ ،عباسپور ،ہجیرہ ،

 

سدھنوتی ،پونچھ ، حویلی اور کوٹلی میں عوام نے جس محبت کا مظاہرہ کیا اس پر ان کا مشکور ہوں ، انشاءاللہ کارکردگی کی بنیاد پر چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور محترمہ فریال تالپور کی قیادت میں 2026 میں کلین سویپ کریں گے اور عوامی حکومت کے ذریعے ریاست کی تقدیر بدل کر رکھ دیں گے ، اگر آزادکشمیر میں پیپلز پارٹی کے ادوار کو نکال دیا جائے تو بقیہ صفر بچتا ہے ۔

 

وزیراعظم نے ان خیالات کا اظہار ڈائریکٹر نیوز جی ٹی وی سید عبد القیوم بخاری ،ایم ڈی (we) نیوز عمار مسعود ،ہیڈ آف کشمیر افئیرز جی ٹی وی / سینئر اینکر پرسن خواجہ عبد المتین ، چیئرمین لفظ ڈیجیٹل وقاص ذاہد عباسی ، سچ ٹی وی کے ڈائریکٹر نیوز حنیف قمر سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جنہوں نے جموں کشمیر ہاؤس میں ان سے ملاقات کی ۔

 

فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے آزادکشمیر حکومت سے متعلق تمام امور پر عملدرآمد کر دیا گیا ہے ،محکموں کی تعداد 20 کر دی گئی ،وزراء کی تعداد 20 ہے ،ایف آئی آرز ختم کی گئیں ،شہداء اور زخمیوں کو معاوضہ جات اور ہر شہید کے وارث کو ملازمت فراہم کر دی گئی اسی طرح کئی اور ایسے امور تھے جن پر عملدرآمد کر دیا گیا ۔

 

ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے 60 دن کی کارکردگی 4 سال پر بھاری ہے یہ سب اس وجہ سے ممکن ہوا ہے کہ میں ، میرے وزراء اور بیوروکریسی نے یہ طے کر لیا تھا کہ ہم نے ریاست کو بحران سے نکالنا ہے ،اگر کسی کام کا مصمم ارادہ کر لیا جائے تو اللّہ پاک بھی مدد فرماتے ہیں

 

ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کے معاملے پر اپوزیشن لیڈر سے مشاورت کا عمل مکمل کر لیا ہے انشاءاللہ جلد حتمی نام وزیراعظم پاکستان کو فراہم کر دئیے جائیں گے ۔

 

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی عام آدمی پر خاص توجہ دیتی ہے اسی لئے آتے ہی گریڈ ایک کے ملازمین کو مستقل کیا ،چھوٹے ملازمین کو ایک اضافی تنخواہ دی ،ڈرائیورز کے گریڈ 4 سے بڑھا کر 5 کر دئیے کم سے کم اجرت 40 ہزار روپے مقرر کی ،اور پونچھ ،میرپور ڈویژنز اور ضلع کوٹلی میں بے شمار عوامی فلاح کے منصوبوں کا اعلان کیا جن میں سے کئی کا نوٹیفکیشنز بھی جاری ہو چکا ۔

 

انہوں نے کہا کہ جمہوریت مکالمے ،برداشت اور رواداری کا نام ہے، مکالمے سے ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے خیالات کی تبدیلی سے آگے بڑھنے کے مواقع ملتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ جب اقتدار سنبھالا تو کئی طرف سے مشورہ دیا گیا کہ چھ مہینے کا اقتدار سیاسی خودکشی کے مترادف ہوگا مگر کسی نے تو یہ بوجھ اٹھانا ہے ہم نے اس بھاری پتھر کو اٹھایا ہے انشاءاللہ ہم اسکے تقاضوں کو بھی پورا کریں گے ۔

 

وزیراعظم نے کہا کہ میڈیا اس دور میں بہت ترقی کر چکا خبر کے ذرائع لامحدود ہیں سوشل میڈیا کی طاقت نے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو پیچھے چھوڑ دیا لہذا اب آپ کسی کی آنکھوں میں دھول نہیں جھونک سکتے ۔

 

انہوں نے کہا کہ ہماری نیت صاف ہے پیپلزپارٹی نے آزادکشمیر کو تین میڈیکل کالج دئیے یونیورسٹیاں دیں ہم ڈیلیور کر کے دکھاتے ہیں ہم برداشت اور رداداری پر یقین رکھتے ہیں جو ہمیں صدر آصف علی زرداری سے ورثے میں ملی ہے ،

 

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے جمہوریت کیلیے جانی قربانیاں دی ہیں ہمارے قائدین شہید ہوے مگر ہم عوام کی طاقت سے آگے بڑھتے ہیں عوام کی ہماری قوت ہیں اور ہم عوام کی طاقت سے ووٹ کی کراچی سے نظام کو آگے لیکر چلیں گے ۔

 

انہوں نے کہا کہ معرکہ حق میں ہماری پاک فوج نے وہ کارنامہ انجام دیا کو رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا بزدل بھارت کو ایسی شکست فاش دی ہے کہ مودی اور بھارتی فوج زخم چاٹ رہی ہے اور اس سے مسئلہ کشمیر ایک مرتبہ پھر اجاگر ہوا ہے امریکی صدر نے اس اہم مسئلے کو حل کرنے کیلیے کہا ہے جو پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی ہے پاکستان کا وقار دنیا بھر میں بلند ہوا جس سے ہر کشمیری کا سر فخر سے بلند ہوا ۔

 

انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر جنوبی ایشیاء کا اہم مسئلہ ہے اسے حل کئے بغیر جنوبی ایشیاء میں پائیدار امن کی ضمانت نہیں دی جا سکتی شہداء کشمیر میں قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی نہتے کشمیریوں پر بربریت رکوانے کیلیے اپنا کردار ادا کرے ۔

 

اس موقع پر پولیٹکل اسسٹنٹ سید عزادار حسین کاظمی ، پرنسپل سٹاف آفیسر عثمان ممتاز بٹ ، سٹاف آفیسر صاحبزادہ یونس اور غلام مصطفےٰ ہاشمی بھی موجود تھے ۔

Comments are closed.