بھارتی یومِ جمہوریہ،کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں،یومِ جمہوریہ غلامی،ریاستی دہشتگردی کی علامت ہے،مقررین
سرینگر(کشمیر ایکسپریس نیوز)مقبوضہ جموں و کشمیر، آزاد کشمیر، پاکستان اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج بھارت کے یومِ جمہوریہ کو یومِ سیاہ کے طور پر منا رہے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد عالمی برادری کی توجہ اس حقیقت کی جانب مبذول کرانا ہے کہ بھارت گزشتہ کئی دہائیوں سے کشمیری عوام کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے تحت حاصل حقِ خودارادیت سے مسلسل محروم رکھے ہوئے ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یومِ سیاہ منانے کی اپیل آل پارٹیز حریت کانفرنس کی جانب سے کی گئی ہے۔ اپیل میں کہا گیا ہے کہ کشمیری عوام بھارت کے یومِ جمہوریہ کو جمہوریت کا دن نہیں بلکہ غلامی، جبر، ریاستی دہشت گردی اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کی علامت سمجھتے ہیں اور اسے کسی صورت قبول نہیں کرتے۔
یومِ سیاہ کے موقع پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جا رہی ہے۔ کاروباری مراکز، تعلیمی ادارے اور ٹرانسپورٹ جزوی یا مکمل طور پر بند ہیں، جبکہ سڑکوں پر غیر معمولی سناٹا دیکھنے میں آ رہا ہے۔ دوسری جانب آزاد کشمیر، پاکستان اور دنیا کے مختلف ممالک اور عالمی دارالحکومتوں میں مقیم کشمیریوں کی جانب سے بھارت مخالف مظاہرے، احتجاجی ریلیاں اور سیمینارز منعقد کیے جا رہے ہیں۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کو ایک متنازع اور جبری قبضے والے خطے میں یومِ جمہوریہ منانے کا کوئی اخلاقی، قانونی یا آئینی حق حاصل نہیں، کیونکہ مقبوضہ کشمیر میں آج بھی لاکھوں بھارتی فوج تعینات ہے جو کشمیری عوام کو جبر و تشدد کے ذریعے دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔
26 جنوری ہر سال کشمیری عوام کے لیے مشکلات اور پابندیوں میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ اس سال بھی بھارتی فورسز نے یومِ جمہوریہ کے موقع پر مقبوضہ علاقے میں سخت ترین سیکیورٹی انتظامات نافذ کر دیے ہیں۔ وادی کشمیر اور جموں ریجن میں سرکاری تقریبات کے مقامات کی جانب جانے والی اہم شاہراہوں اور سڑکوں کو خار دار تاروں سے بند کر دیا گیا ہے۔
بھارتی فورسز نے لوگوں کی نقل و حرکت محدود کرنے کے لیے ڈرونز کا استعمال شروع کر دیا ہے، جبکہ بھارتی پیراملٹری فورسز اور پولیس سنیفر کتوں کے ہمراہ سرینگر اور دیگر شہروں میں داخلی اور خارجی راستوں پر اچانک ناکے لگا کر گاڑیوں اور شہریوں کی سخت تلاشی لے رہی ہیں۔ ان اقدامات سے معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہو چکے ہیں۔
یومِ سیاہ کے ذریعے کشمیری عوام ایک مرتبہ پھر عالمی برادری، اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کو یہ واضح پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ بھارت کو ایک قابض طاقت سمجھتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ اقوامِ متحدہ اپنی قراردادوں پر عمل درآمد یقینی بنائے اور کشمیری عوام کو ان کا جائز اور بنیادی حق، یعنی حقِ خودارادیت، دلانے کے لیے فوری اور مؤثر کردار ادا کرے۔

Comments are closed.