تاریخی قلعوں پرمبنی خواتین فنکاروں کی نمائش

راولپنڈی آرٹس کونسل میں تاریخی قلعوں پر مبنی خواتین فنکاروں کی نمائش

 

اسلام آباد(شمیم اشرف سے)صنف نازک ، عزم آپنجاب کونسل آف دی آرٹس کی راولپنڈی آرٹ گیلری میں آن 9 فروری 2026 و بروز پیر شام 3 بجے صنف نازک، عزم آہن” کے نام سے ایک منفرد نمائش کا افتتاح پاکستان میں نارتھے سائپرس ، جمہوریہ ترکیہ کی سفیر بو کے کوپ نے کیا۔

پنجاب کونسل آف دی آرش رو لپنڈی اور تصویر خان وژول اینڈ پر فارمنگ آرٹس سوڈا ہو اسلام آباد کے اشتراک سے منعقد ہونے والی اس نمائش میں جڑواں شہروں سے تعلق رکھنے والی گیارہ خواتین مصوروں امبرین راشد خان ، الا ہے مواز ذولقرنین، بال مسعود، خدیج عمر عصمت جبین ، کنول نفیس صال فیصل سلوت مجازی شبل معظم سنینا رحمت اور زینب مواز نے اپنے ختمہارے شائقین فن کے لیے پیش کیے۔

 

اس نمائش کا مرکزی خیال معروف مصور مجسمہ ساز ، مصنف اور ڈراما ڈائریکٹر احمد حبیب نے ڈرافٹ کیا جو تصویر خانہ کے پانی اور ڈائریکٹر بھی ہیں، جبکہ کیوریشن کی اہم ذمہ داریاں سول نفیس اور خدیجہ عمر نے نبھائیں جن کے پیارے بھی اس نمائش کا اہم حصہ ہیں۔

 

اس منفر د نمائش میں آئل کلر، ٹریکٹر، ایکریلک اور مکس میڈیم پر پچاس خاپارے شامل ہیں جن میں پاکستان بھر سے دس قلعوں کو کینوس د کاغذ پر محفوظ کیا گیا ہے جن میں قلعہ روہتاس ، قلعہ روات ، قلعہ پھر والہ، قلعہ رام کوٹ، قلعہ ایک قلعہ سنجانی، قلع بابت ، قلع است، قلعہ جمرود، قلعہ لا ہور اور قلعہ دراورز شامل ہیں۔

 

وو من امپاورمنٹ کی جب بات ہوتی ہے تو زیادہ تر سیمینار منعقد کرائے جاتے ہیں یا پھر کسی سڑک پر احتجاج دیکھنے میں آتے ہیں مگر میرےنزدیک آج کی نمائش در اصل حقیقت میں وو من پاور شو ہے جس کو دو مقاصد کے طور پر لیا جا سکتا ہے۔

 

Women Empowement” اور دوسرا “Pictorial Documentation”ایکسر زمین پاکستان کے مختلف حصوں میں صدیوں سالوں سے گرمی سردی اور دھوپ بارش سنتے یہ قلعے خاموش گواہوں کی طرح بغیر وقت کے آگے سینہ سپر ہیں۔

 

پہاڑوں کی چوٹیوں، سرسبز میدانوں اور خشک صحراؤں میں داستان گو بن کر کھڑی یہ تقسیم الشان عمارتیں جو ہمارے شاندار ماضی کی پہچان ہیں، آج عمومی غفلت کے باعث ٹوٹ پھوٹ کا انکار ہیں

 

اس لیے اندیشہ ہے کہ ان کھردرے در و دیوار پہ لکے تنظیم فاتحین کے حکم نامے، بھرے گھوڑوں کی ٹا میں اور چمکتی تلواروں کی داستا نہیں بھی رومانی حال کے پس منظر میں گم ہو کر نہ ہو جائیں

 

یہ نمائش اس ماضی کو زند درکھنے کی بھی ایک کوشش ہے تا کہ آنے والی نسلوں کو بکھرے پتھر اور گرد آلود آثار کے بجائے یہ اختیار سے زندہ استعاروں کے طور پرورش کیے جائیں۔چوں کہ فاتحین کے کارناموں سے آراستہ تاریخ کے اوراق میں عورت کو ہمیشہ صنف نازک کہہ کر اس کے عزام آئین کو صرف نظر کر دیا گیا

 

اس لیے اس کی جدو جہد کو بھی کم کم ہی یاد رکھا جاتا رہا مگر دنیا بھر کی سینہ بہ سینہ تواریخ میں، ان گنت خواتین کی مزاحمت اور ثابت قدمی کی داستانیں نیم تاریک طاقچوں میں رکھی ملتی ہیں : اگر ڈھونڈا جائے۔

 

آن کی یہ نمائش: بنیادی طور پر ایسی ہی گیار و حوصلہ مند خواتین کی ثابت قدمی اور ہم آہنگی کی عملی دلیل ہے جس کا اظہار ان مصوروں نے محض پھول ، پتے ۔ پہاز ، جھرنے اور میر ہزار جیسے روائتی موضوعات پر طبع آزمائی کے بجائے تاریخی قلعے بنا کر کیا ہے۔

 

انھوں نے اپنی اس مضبوط علامت نگاری سے ثابت کیا ہے کہ ہماری آج کی عورت کا موضوع بھی محض نزاکتیں نہیں بلکہ دفاع اور استحکام ہو سکتا ہے ۔

 

مہمان خصوصی اور ڈائریکٹر راولپنڈی آرٹس کونسل محمد شکور نے اپنے اپنے خطاب میں خواتین مصوروں کی اس کاوش پر دل کھول کر داد دی جبکہ اسلام آباد اور راولپنڈی کی عوام نے بھی اس نمائش کو بے حد سراہا جو 12 فروری 2026 ء کی شام تک جاری رہے گی

Leave A Reply

Your email address will not be published.