آبنائے ہرمزکی بندش سے تیل وگیس کی ترسیل95فیصد تک گرگئی

عالمی توانائی کا بحران: آبنائے ہرمز کی بندش سے تیل و گیس کی ترسیل 95 فیصد تک گر گئی

 

اسلام آباد/تہران (انٹرنیشنل نیوز): امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے چوتھے ہفتے میں داخل ہوتے ہی عالمی منڈیوں میں تیل اور گیس کی سپلائی کا سنگین بحران پیدا ہو گیا ہے۔

 

دنیا کی 20 فیصد تیل و گیس کی ترسیل کا اہم ترین راستہ، آبنائے ہرمز، تقریباً مکمل طور پر بند ہو چکا ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافے اور قلت کا خدشہ منڈلا رہا ہے۔

 

الجزیرہ ٹی وی کے مطابق 2 مارچ کو ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے سینئر مشیر ابراہیم جباری کے اعلان کے بعد سے اس گزرگاہ سے ہونے والی آمد و رفت میں 95 فیصد سے زائد کمی واقع ہوئی ہے۔

 

ایرانی حکام کا موقف ہے کہ یہ راستہ صرف امریکہ، اسرائیل اور ان کے حامی ممالک کے جہازوں کے لیے بند ہے، تاہم دیگر تمام بحری جہازوں کو بھی گزرنے کے لیے تہران سے پیشگی اجازت لینا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

 

رپورٹ کے مطابق، تقریباً 2,000 بحری جہاز آبنائے کے دونوں اطراف پھنسے ہوئے ہیں۔ تاہم، گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ایران نے پاکستان، چین، بھارت اور ملائیشیا کے جھنڈے تلے چلنے والے ٹینکرز کو ”کلیئرنس” دے کر گزرنے کی اجازت دی ہے۔

 

ملائیشین وزیراعظم انور ابراہیم نے اپنے جہازوں کو راستہ دینے پر تہران کا شکریہ بھی ادا کیا ہے۔امن کے دور میں اس راستے سے یومیہ 20 ملین بیرل تیل گزرتا ہے۔

 

اب اس بڑے خلا کو پُر کرنے کے لیے مشرقِ وسطیٰ کے ممالک تین بڑی پائپ لائنوں پر نظریں جمائے ہوئے ہیں تاکہ خلیج کے پروڈیوسرز اپنا تیل کھلے سمندر تک پہنچا سکیں

 

سعودی عرب کی یہ پائپ لائن تیل کو بحیرہ احمر (Red Sea) تک پہنچا سکتی ہے۔ متحدہ عرب امارات کی یہ لائن آبنائے ہرمز کو بائی پاس کر کے فجیرہ کی بندرگاہ تک جاتی ہے۔ شمالی راستے سے تیل کی برآمد کا ایک ممکنہ ذریعہ۔

 

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.