جنگ کے بادلوں نے کشمیری ہنر مندوں کی کمر توڑ دی

جنگ کے بادلوں نے کشمیری ہنر مندوں کی کمر توڑ دی، عالمی منڈیوں تک رسائی محدود

ڈنمارک، چین اور یو اے ای میں نمائشیں منسوخ: کشمیری قالینوں کی برآمدات بری طرح متاثر

 

سری نگر(کشمیر ایکسپریس نیوز) خلیج میں جاری کشیدگی نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی مشہورِ زمانہ قالین صنعت کو شدید بحران سے دوچار کر دیا ہے۔

 

عالمی سطح پر ڈنمارک، چین اور متحدہ عرب امارات (UAE) میں ہونے والی بڑی تجارتی نمائشوں کی منسوخی کے باعث کشمیری قالینوں کی برآمدات رک گئی ہیں۔

 

کشمیر کے برآمد کنندگان کے مطابق، مغربی ایشیا میں جاری تنازع نے سپلائی چین اور بین الاقوامی سفر کو متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں خریداروں اور نمائش کنندگان نے اپنے پروگرام معطل کر دیے ہیں۔

 

ان ممالک میں ہونے والی نمائشیں کشمیری قالینوں کے لیے بڑے پلیٹ فارم تھے، جہاں سے کروڑوں روپے کے آرڈرز موصول ہوتے تھے، لیکن اب یہ ایونٹس منسوخ ہو چکے ہیں۔

 

دبئی اور دیگر ریاستوں میں ہونے والی نمائشیں بھی کشیدگی کی نذر ہو گئی ہیں، جس سے مشرق وسطی کی ایک بڑی مارکیٹ کشمیری ہنر مندوں کے ہاتھ سے نکلتی دکھائی دے رہی ہے۔

 

کشمیری قالین بافوں اور تاجروں کا کہنا ہے کہ قالین کی صنعت پہلے ہی مختلف چیلنجز کا شکار تھی، اور اب جنگی حالات نے رہی سہی کسر نکال دی ہے۔

 

ان کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال جلد معمول پر نہ آئی تو ہزاروں خاندانوں کا روزگار دا پر لگ جائے گا، کیونکہ قالین کی تیاری پر آنے والی لاگت نکالنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔

 

ماہرینِ معاشیات کا ماننا ہے کہ کشمیری دستکاری کی صنعت کا دارومدار بین الاقوامی سیاحت اور برآمدات پر ہے، اور عالمی سطح پر کسی بھی قسم کی فوجی کشیدگی براہِ راست وادی کے غریب محنت کش طبقے کو متاثر کرتی ہے

Leave A Reply

Your email address will not be published.