یاسین ملک کو سرلا بھٹ قتل کیس میں ملوث کرنا سیاسی انتقام

اسلام آباد ( کشمیر ایکسپریس نیوز) جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) نے بھارت کی جانب سے پارٹی چیٔرمین محمد یاسین ملک کو 36 سال پرانے سرلا بھٹ قتل کیس میں چارج شیٹ کیے جانے کے اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے سیاسی انتقام اور آزادی پسند قیادت کو خاموش کرانے کی کوشش قرار دیا ہے۔

لبریشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان اور محمد یاسین ملک کے خصوصی نمائندے محمد رفیق ڈار نے سنٹرل انفارمیشن آفس سے جاری بیان میں کہا کہ بھارتی حکومت مختلف مقدمات کے ذریعے محمد یاسین ملک کو سزائے موت دلوانے کی کوشش کر رہی ہے اور اسی سلسلے میں اب انہیں 1990ء کے سرلا بھٹ قتل کیس میں بھی ملوث کیا گیا ہے،

حالانکہ ان کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں۔ ترجمان نے دعویٰ کیا کہ سرلا بھٹ کے قتل کے وقت محمد یاسین ملک شدید زخمی حالت میں ایک خفیہ مقام پر زیر علاج تھے، کیونکہ 8 اپریل 1990ء کو بھارتی فورسز کے ایک آپریشن کے دوران وہ پانچ منزلہ عمارت سے چھلانگ لگانے کے باعث شدید زخمی ہوئے تھے اور دو ماہ سے زائد عرصے تک زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہے۔ ان کے بقول ایسی حالت میں ان کا کسی بھی مجرمانہ کارروائی میں ملوث ہونا ممکن نہیں تھا۔

بیان میں کہا گیا کہ لبریشن فرنٹ نے 1990ء میں سرلا بھٹ کے قتل کی نہ صرف مذمت کی تھی بلکہ اپنی سطح پر اس واقعے کی تحقیقات بھی شروع کی تھیں، تاہم بھارتی فورسز کی کارروائیوں، گرفتاریوں اور متعدد رہنماؤں کی شہادتوں کے باعث یہ تحقیقات مکمل نہ ہو سکیں۔ محمد رفیق ڈار نے کہا کہ محمد یاسین ملک، شہید شیخ عبد الحمید، شہید محمد یوسف ادریس اور شہید غلام محمد ٹپلو کو اس مقدمے سے جوڑنا بے بنیاد اور بدنیتی پر مبنی اقدام ہے

جس کا مقصد کشمیری قیادت کو بدنام کرنا اور حقِ خودارادیت کی جدوجہد کو نقصان پہنچانا ہے۔ لبریشن فرنٹ نے عالمی برادری، بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور بھارت کی سول سوسائٹی سے اپیل کی کہ وہ محمد یاسین ملک کی جان کے تحفظ، منصفانہ قانونی عمل کو یقینی بنانے اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل کے لیے مؤثر کردار ادا کریں

دریں اثنا، پارٹی ترجمان نے آزاد کشمیر میں جاری سیاسی بحران پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے زور دیا کہ اس مسئلے کا حل طاقت یا خونریزی کے بجائے بامعنی مذاکرات، افہام و تفہیم اور باہمی اعتماد کے ذریعے تلاش کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال کا پرامن حل حکومتوں اور متعلقہ اداروں کے لیے ایک اہم امتحان ہے، جس کے نتائج ریاست جموں و کشمیر کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کریں گے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.