انٹری پوائنٹس بند،ایکشن کمیٹی کالانگ مارچ کا اعلان

انٹری پوائنٹس بند،ایکشن کمیٹی کا مظفر آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان

 

مظفرآباد، بھمبر، میرپور، کوٹلی، راولاکوٹ، حویلی ،باغ ،ہٹیاں بالا (نمائندگان کشمیر ایکسپریس ) جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر دوسرے روز بھی ریاست گیر شٹرڈائون اور پہیہ جام جاری رہا ،آزادکشمیر اور پاکستان کو ملانے والے تمام — انٹری پوائنٹس بندرہے ،جموں و کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا آج یکم اکتوبر سے مظفر آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان،بھمبر، میرپور، کوٹلی، راولاکوٹ، حویلی اور باغ سے قافلے مظفرآباد روانہ ہوں گے تفصیلات کے مطابق جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی آزادکشمیر نے 29 ستمبر 2025 کو پورے آزاد کشمیر میں غیر معینہ مدت تک شٹرڈاؤن ہڑتال کی کال دے رکھی تھی آزاد کشمیر کی حکومت نے ایک دن قبل ہی پورے آزاد کشمیر میں فون سروس کے ساتھ انٹر نیٹ سروس بھی بند کر دی جس کے ساتھ ہی عوام اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر نکل آئی۔راولاکوٹ میں بھی احتجاجی دھرنا جاری رہا جہاں قرب و جوار سے بڑے قافلوں نے شرکت کی آزاد کشمیر بھر بھمبر، میرپور، کوٹلی، راولاکوٹ، حویلی ،باغ، ہجیرہ، عباسپور، کھائیگلہ، پانیولہ اور تراڑکھل سمیت تمام تحصیلوں میں شہروں میں احتجاجی دھرنے جاری ہیں ، ہزاروں افراد پر اپنے حقوق کےلئے انٹری پوائنٹس منگلا،ہولاڑ،آزاد پتن،کوہالہ،برار کوٹ پردھرنا دیے ہوئے ہیں ۔جبکہ انتظامیہ کی جانب سے کوہالہ انٹری پوائنٹ پر کنٹینر لگا کر راستہ بند کر دیا گیا راولاکوٹ میں کمیٹی کے رکن سردار عمر نذیر نے احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لانگ مارچ اور دھرنوں کا مقصد بنیادی مطالبات کی منظوری ہے جن میں انٹرنیٹ سروس کی بحالی، ایف سی، پی سی، پنجاب اور اسلام آباد پولیس کی واپسی اور مظفرآباد میں قتل عام کے مجرموں کی گرفتاری شامل ہیں انھوںنے کہا کہ مطالبات کی منظوری کے بغیر واپسی ممکن نہیں۔ اگر مطالبات پورے نہ ہوئے تو یکم اکتوبر کو لانگ مارچ مظفرآباد کی جانب روانہ ہوگا ہم نے ہر ضلع میں کارکنان اور سول سوسائٹی کو تیار رہنے کی ہدایت کی ہےکمیٹی کے اعلان کے مطابق بھمبر، میرپور، کوٹلی، راولاکوٹ، حویلی اور باغ سے عوامی قافلے یکم اکتوبر کو مظفرآباد کے لیے روانہ ہوں گے سردار عمر نذیر نے تمام اضلاع میں ایکشن کمیٹی کے اراکین اور سول سوسائٹی سے اپیل کی کہ وہ بھرپور تیاری کے ساتھ لانگ مارچ میں شریک ہوں اور اپنے حق کے لیے آواز بلند کریں۔انھوںنے کہا کہ ہم پرامن ہیں، ہمارے پاس کوئی ہتھیار یا بارود نہیں لیکن ہمارے پاس اخلاص، صبر اور اللہ کی ذات پر کامل یقین ہے۔ عوام گھروں میں نہ رہیں بلکہ احتجاجی دھرنوں میں شریک ہوں کیونکہ حالات کے مطابق کسی بھی لمحے فیصلہ کیا جا سکتا ہے دوسری جانب ہزاروں افراد پر مشتمل نیلم کارواں مظفرآباد میں داخل ہو گیا جس سے شہر خون رنگ لائے گا، انقلاب آئے گاکے نعروں سے گونج اٹھا شوکت میرکا کہنا ہے کہ حکمرانوں کی عیاشیوں کا دور ختم ہو چکا ہے اور مطالبات پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ لانگ مارچ اور دھرنوں کا مقصد بنیادی مطالبات کی منظوری ہے یہ احتجاجی دھرنے لاک ڈاؤن کی صورت میں جاری رہیں گے اور پوری ریاست سے قافلے مظفرآباد کی جانب بڑھ رہے ہیں قوم کے اس اتحاد اور پرامن تحریک نے طاقتوروں کو دنیا بھر میں بے نقاب کر دیا ہے۔ انھوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی پرامن جدوجہد جاری رکھیں گے اور مطالبات کی منظوری تک واپسی ممکن نہیں ہوگی۔عوامی ایکشن کمیٹی کا کہنا ہے کہ

Comments are closed.