حضرت سائیں سہیلی سرکارؒ کے 126ویں سالانہ عرس کی 9 روزہ تقریبات کا باقاعدہ آغاز ہو گیا
مظفرآباد (کشمیر ایکسپریس نیوز)حضرت سائیں سہیلی سرکارؒ کے 126ویں سالانہ عرس کی 9 روزہ تقریبات کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔ آزادکشمیر کے وزیر اوقاف ،مذہبی امور و اطلاعات چوہدری محمد رفیق نئیر نے عرس کی تقریبات کا آغاز کیا۔
عرس کے آغاز پر دربار سائیں سہیلی سرکارؒ پر قرآن خوانی، فاتحہ خوانی اور خصوصی دعاؤں کا اہتمام کیا گیا، جس میں عقیدت مندوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
تقریبات کے آغاز کے موقع پر وزیر اطلاعات، اوقاف و مذہبی امور آزاد کشمیر چوہدری محمد رفیق نئیر نے دربار پر حاضری دی، چادر پوشی کی اور سائیں سہیلی سرکارؒ کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی۔
اس موقع پر سیکرٹری اوقاف و مذہبی امور عامر محمود مرزا ،ترجمان وزیر اعظم آزاد کشمیر شوکت جاوید میر ،، ڈائریکٹر جنرل محکمہ اوقاف آزاد کشمیر محمد یونس چوہدری، ڈائریکٹر اطلاعات محمد بشیر مرزا سمیت دیگر بھی موجود تھے۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر اطلاعات، اوقاف و مذہبی امور آزاد کشمیر چوہدری محمد رفیق نئیر نے کہا کہ سائیں سہیلی سرکار اولیائے کرام کی اس عظیم روایت کے امین ہیں جس کی بنیاد محبتِ الٰہی پر ہے۔
126ویں عرس پر انتظامات کو فول پروف بنایا گیا ہے۔ علمائے کرام و مشائخ عظام مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دیں۔ اولیائے کرام نے ہمیشہ محبت اور بھائی چارے کا درس دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر کہیں کمی کوتاہی ہے تو نشاندہی کی جائے ، درستگی کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ امورِ دینیہ، اوقاف اور انتظامیہ سے بات کی گئی ہے اور ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ انتظامات کو مزید بہتر بنایا جائے۔
سائیں سہیلی سرکارؒ کا پیغام محبت اور اخلاص کا درس دینا تھا۔ علما کرام امن، بھائی چارے اور محبت کے پیغام کو عام کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔
یاد رہے کہ سائیں سہیلی سرکارؒ کے 9 روزہ عرس کی تقریبات کے دوران محافلِ نعت، محافلِ ذکر، لنگر اور دیگر روحانی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رہے گا، جبکہ ملک و قوم کی سلامتی اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں بھی کی جائیں گی۔
قبل ازیں عرس کی تقریبات کے آغاز کے موقع پر ضلعی انتظامیہ، پولیس ، میونسپل کارپوریشن اور دیگر متعلقہ اداروں کی جانب سے فول پروف سکیورٹی، صفائی اور دیگر انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ زائرین کو احاطۂ دربار میں حاضری کے دوران آسانی میسر رہے۔ 9 روزہ تقریبات کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے جو اختتامی دعا تک جاری رہے گا۔

Comments are closed.