بھارت انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث، آسیہ اندرابی کو فوری رہا کیا جائے: دفتر خارجہ
اسلام آباد (رازق بھٹی)دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہے اور وہاں کشمیری عوام و قیادت کو سیاسی بنیادوں پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے انسانی حقوق، دہشتگردی اور عدالتی نظام کے حوالے سے دعوے بے بنیاد ہیں جبکہ خود بھارت کے اندر عدالتی معاملات پر سوالات اٹھ رہے ہیں اور خود احتسابی کا فقدان ہے۔
انہوں نے کہا کہ سمجھوتہ ایکسپریس جیسے واقعات بھی بھارت کے کردار پر سوالیہ نشان ہیں۔انہوں نے کشمیری قیادت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ علی شاہ گیلانی، مسرت عالم بھٹ اور شبیر احمد شاہ سمیت متعدد رہنما اپنی آدھی زندگیاں قید و بند کی صعوبتوں میں گزار چکے ہیں جو انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔
ترجمان نے کہا کہ کشمیری خاتون رہنما آسیہ اندرابی کو دی جانے والی سزائیں شرمناک ہیں اور انہیں فوری طور پر رہا کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو سیاسی بنیادوں پر سزائیں دینا انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
طاہر حسین اندرابی نے مزید کہا کہ بھارت کی جانب سے وزیر خارجہ کا حالیہ بیان انتہائی شرمناک اور حقائق کے منافی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیری عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرے اور بھارت کو اس کے اقدامات پر جوابدہ ٹھہرائے
طاہر حسین اندرابی کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اور خلیج تنازع پانچویں ہفتے میں داخل ہو چکا ہے، پاکستان نے سفارتی کوششیں تیز کردی ہیں
انھوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے کل کراؤن پرنس محمد بن سلمان سے فون پر بات کی، وزیراعظم کی سعودی ولی عہد کے ساتھ موجودہ صورتِ حال پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور جنگ بندی پر زور دیا ہے، پاکستان نے مذاکرات کے ذریعے تنازع حل کرنے پر زور دیا ہے، وزیراعظم کی قیادت میں پاکستان کی سفارت کاری جاری ہے، وزیراعظم کی قیادت میں فریقین کے درمیان مکالمے کی کوششیں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مختلف ممالک کے سربراہوں سے رابطے میں ہیں، پاکستان خطے میں امن کے لیے کردار ادا کر رہا ہے، وزیراعظم نے ایرانی صدر کے ساتھ بھی موجودہ صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا،
وزیراعظم نے کویت، ترکیہ اور اردن کے سربراہان سے بھی گفتگو کی، لبنان، مصر، بنگلادیش کے سربراہان سے بھی بات چیت کی۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ نائب وزیراعظم بھی سفارتی محاذ پر خطے کے ممالک کے ساتھ رابطوں میں ہیں، ناروے، سعودی عرب، آذربائیجان سمیت مختلف ممالک کے ساتھ رابطے ہوئے، پاکستان مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے،
وزیر اعظم نے سعودی ولی عہد سے رابطے میں سعودی عرب پر حملوں کی مذمت کی۔طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستان نے سعودی عرب سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا،
پاکستان نے کشیدگی کے خاتمے اور امتِ مسلمہ کے اتحاد پر زور دیا، وزیر اعظم نے سعودی قیادت کو پاکستان کی سفارتی کاوشوں سے آگاہ کیا، وزیر اعظم اور سعودی قیادت نے قریبی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا ہے،
23 مارچ کو وزیر اعظم کی ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے گفتگو ہوئی انہوں نے خطے کی سنگین صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا۔
انہوں نے کہا کہ ایران سے بات چیت میں کشیدگی میں کمی، مذاکرات اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا ہے، وزیر اعظم نے امتِ مسلمہ کے اتحاد اور خطے میں امن کے لیے پاکستان کے کردار کا اعادہ کیا، 18 تا 21 مارچ وزیر اعظم کے متعدد عالمی رہنماؤں سے ٹیلیفونک رابطے ہوئے۔

Comments are closed.