پاکستان شہریت ایکٹ میں ترمیم: والدین میں سے کوئی بھی پاکستانی ہو تو شہری حقوق حاصل
اسلام آباد (کشمیر ایکسپریس نیوز)حکومتِ پاکستان نے پاکستان شہریت ایکٹ 1951 میں ترمیم کرتے ہوئے ایک اہم قانون منظور کیا ہے، جسے 2026 سے فوری طور پر نافذ العمل قرار دیا گیا ہے۔
اس ترمیم کے تحت:
دفعہ 5 میں لفظ “والد” (Father) کو تبدیل کر کے “والدین” (Parent) کر دیا گیا ہے۔
چنانچہ اب وہ تمام افراد، جن کے والد یا والدہ میں سے کوئی ایک پاکستانی شہری ہو، انہیں پاکستانی شہریت کا حقدار تسلیم کیا جائے گا، خواہ ان کی تاریخِ پیدائش کچھ بھی ہو۔
پس منظر:
متعدد ایسے معاملات سامنے آئے جن میں پاسپورٹ کی درخواستیں اس بنیاد پر مؤخر یا مسترد کی گئیں کہ درخواست دہندگان کے والد غیر ملکی تھے، حالانکہ ان کے پاس نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (NADRA) کے جاری کردہ قومی شناختی کارڈ موجود تھے۔
عدالتی نظائر:
پشاور ہائی کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کے معزز فیصلوں میں یہ قرار دیا گیا کہ سنہ 2000 کی ترمیم کو ماضی سے مؤثر (Retrospective Effect) سمجھا جائے، تاکہ ایسے افراد کو بھی شہریت کے حقوق فراہم کیے جا سکیں۔
ترمیم کا مقصد:
شہریت کے حصول میں قانونی وضاحت پیدا کرنا
متاثرہ افراد کو ان کے بنیادی حقوق کی فراہمی
پاسپورٹ کے اجرا کے عمل میں سہولت پیدا کرنا
یہ ترمیم انصاف اور مساوات کے اصولوں کے عین مطابق ایک اہم پیش رفت ہے۔
