مہاجرین اورآزاد کشمیرکےعوام کوالگ نہیں ہونےدینگے،فاروق حیدر

چناری (کشمیر ایکسپریس نیوز)سابق وزیراعظم آزادکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان آزادکشمیر کے آئین کے ساتھ کھلواڑ کرنے والوں کو سختی سے منع کریں

ہم خود بھی بزور بازو بہت کچھ کرسکتے ہیں لیکن یہاں حالات خراب نہیں کرسکتے نہ ایسا کچھ کرنا چاہتے ہیں جس سے ہندوستان فائدہ اٹھائے،جو کچھ ہورہا ہے کہ پاکستان کے لوگوں کو آزادکشمیر کے لوگوں سے متنفر کرنے کی سازش ہے،

اس کے خلاف ہم حکومت پاکستان سے عملی اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کرتے ہیں قانون کی عملداری پر یقین رکھتے ہیں کسی گروہ کو یہ اختیار نہیں دیا جاسکتا کہ وہ ریاست کے فیصلے کرے،کچھ لوگوں کی خواہش ہے کہ یہاں بھی لفٹنٹ گورنر والا نظام لایا جائے،

جہاں کٹھ پتلی وزیراعلیٰ شہدا کی قبروں پر فاتحہ تک نہیں پڑھ سکتا،وہاں ہماری ماوں بہنوں بیٹیوں کی عزتیں محفوظ نہیں ان کے خون اور مشن سے غداری نہیں کرسکتے

جذباتی نوجوانوں سے کہتا ہوں جو آپ کی جائز بات ہے وہ کریں لیکن آپ کے پاس کس کا مینڈیٹ ہے؟نہ آپ نے الیکشن لڑا؟کونسا ریفرنڈم ہوا،جس سے آپ کے پاس مینڈیٹ آگیا کہ ریاست کے فیصلے کرتے پھریں۔

فیصل راٹھور کو کسی بات کا پتہ نہیں نہ اس کے وزرا کو کچھ علم ہے، وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس کا نوٹس لیں، مقبوضہ کشمیر کے لوگ آج بھی پاک فوج کے منتظر ہیں،

آزادکشمیر کے اندر ایک آئینی عمل انتخابات منعقد ہونے جارہے ہیں،اس میں رکاوٹ ڈالنا اور طرح طرح کے مطالبات کرنے آئین سے غداری ہے حکومت پاکستا ن کے وزرا سے بھی کہتا ہوں کہ وہ بھی اس عمل سے دور رہیں میرے نقطہ نظر میں آزادکشمیر اسمبلی کو یہ اختیار ہی حاصل نہیں کہ وہ مہاجرین کی نشستوں کو ختم کرسکے

،کسی کے ساتھ ذاتی جھگڑا نہیں لیکن حالات و واقعات ایسے ہیں جن کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہم اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ کبھی نظریہ الحاق پاکستان او ر نظریہ پاکستان سے کبھی منہ نہیں موڑیں گے کارکنان سے بھی حلف لیا

مہاجرین کی قربانیوں کو یاد کر تے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں چوہدری غلام عباس نے اپنی بیٹی واپس لینے سے انکار کر دیا،میں ایک تاریخی ورثے کا وارث ہوں جب تک زندہ ہوں عوام کے تعاون سے کسی کو مہاجرین اور آزادکشمیر کے لوگوں کو الگ نہیں کرنے دوں گا

کل کو یہ بھی کہیں گے کہ جو آزادکشمیر میں مہاجر آباد ہیں ان کے ووٹ بھی ختم کریں،حکومت بنے یا نا بنے جہنم میں جاے اس رشے میں کسی کو دراڑ ڈالنے نہیں دوں گا۔یہ رشتہ کبھی نہیں ٹوٹ سکتا جو مہاجرین پاکستان میں آباد ہیں وہ بھی ہمارا حصہ ہیں

بدقسمتی سے سیاسی جماعتوں نے مہاجرین کی نشستوں سے ایسے لوگ آگے لاے جن کی بدولت عوام میں ان کے خلاف نفرت بڑھی مگر اس کا قطی یہ مطلب نہیں کہ ان نشستوں کو ختم کر دیا جاے وزیراعظم آزادکشمیر کو کچھ پتہ نہیں وہ کندہ ناتراش ہیں جس کا کوئی فائدہ نہیں

ان خیالات کا اظہار انہوں نے چناری کے مقام پر حلقہ سات کے مسلم لیگی عہدیداران،منتخب ممبران،سینئر جماعتی کارکنان کے اجلاس سے خطا ب کررہے تھے جو ایک بڑے جلسہ عام کی شکل اختیار کر گیا

جس سے سابق وزیر چوہدری محمد رشید،مرزا آصف،سجاول خان اسلم کاظمی آفتاب کیانی سمیت درجنوں مقرریں نے خطاب کرتے ہوے رکن قانون ساز اسمبلی چوہدری محمد رشید کی ن لیگ میں فیصلے کی تائید کی اور مکمل طور پر اپنی تائید و حمایت کا یقین دلایا۔

اس سے قبل جب راجہ محمد فاروق حیدر خان، چوہدری محمد رشید کے ہمراہ جب چناری پہنچے تو ان کا فقید المثال استقبال کیا گیا سینکڑوں کی تعداد میں لوگوں نے بہت بڑے جلوس کی شکل میں انہیں ریسٹ ہاوس تک لایا

چوہدری محمد رشید کو گھوڑی پر سوار کروایا گیا لیگی کارکنان نے پرجوش نعرے بازی کی راجہ محمد فاروق حیدر خان نے اس موقع پر کہا کہ حکومتیں حاصل کرنے کے لیے قومی مفادات پر سمجھوتہ کرنے والے تاریخ میں نشان عبرت بن گئے

مسلم لیگ ن نے آزادکشمیر اور ضلع جہلم ویلی کے عوام کی خدمت کی ہے گزشتہ پانچ سالوں میں جو بدترین انتقامی کاروائیاں ہوئیں ہیں ان کے خاتمے کا وقت قریب ہے ہمیں الیکشن کمیشن پر مکمل اعتماد ہے کہ وہ آزادانہ منصفانہ اور غیر جانبدارانہ انتخابات یقینی بناے گا

میں نے اپنے والد کے ساتھ چوہدری غلام عباس کو دیکھا ہوا ہے اس کی قبر کے ساتھ کبھی غداری نہیں کروں گا نا کسی کو کرنے دیں گے میں یہ کہنا چاہتا ہوں آئین کا فرسٹ شیڈول پڑھیں اس میں 57 میں جو دوسری شر ط ہے

اس میں حکومت پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ یہاں آئین و قانون کی عملداری یقینی بناے یہ ان کی آئینی ذمہ داری ہے اگر وہ ایسا نہیں کرینگے تو ہمارے ساتھ دھوکہ کے مترادف ہو گا

ہم بھی کر سکتے ہیں لیکن ہم قانون کو ہاتھ میں نہیں لینا چاہتے نا تشدد کرنا چاہتے ہیں راجہ محمد فاروق حیدر خان نے حلقہ سات میں مختلف مقامات پر کارنر میٹنگز سے بھی خطاب کیا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.