مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 نشستیں ختم کرنے کا مطالبہ مسترد

انتخابات وقت پر ہوں گے، جمہوری عمل سبوتاژ کرنے کی ہر کوشش ناکام بنائی جائے گی، آل پارٹیز کانفرنس کا متفقہ اعلان

مظفرآباد(کشمیر ایکسپریس نیوز)وزیراعظم ہاؤس مظفرآباد میں منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس نے متفقہ قرارداد منظور کرتے ہوئے آزاد جموں و کشمیر میں جمہوری اور آئینی عمل کے تسلسل کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ کانفرنس میں شریک سیاسی جماعتوں کے قائدین نے واضح کیا کہ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات آئین اور قانون کے مطابق مقررہ مدت میں منعقد ہوں گے اور انتخابی عمل کو مؤخر، متاثر یا سبوتاژ کرنے کی کسی بھی کوشش کا قانون کے مطابق سختی سے سدباب کیا جائے گا۔

اجلاس میں عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی تھی، تاہم انتظار کے باوجود وہ اجلاس میں شریک نہ ہوئے۔ قرارداد میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی جدوجہد کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے بھارت کے زیر تسلط جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں، سیاسی کارکنوں اور حریت قیادت کی غیر قانونی نظربندی اور آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی بھارتی کوششوں کی شدید مذمت کی گئی۔

آل پارٹیز کانفرنس نے آزاد کشمیر میں جاری جمہوری تسلسل اور آئینی عمل کو ریاستی استحکام کی بنیاد قرار دیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ جمہوری اداروں کو مزید مضبوط اور فعال بنایا جائے گا۔ قرارداد میں کہا گیا کہ سیاسی اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے، تاہم اسے ریاستی نظم و نسق یا ادارہ جاتی نظام کو کمزور کرنے کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔

اجلاس نے قومی سلامتی کے اداروں کے کردار کو سراہتے ہوئے انہیں ریاستی استحکام کا اہم ستون قرار دیا اور اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ بھارت سوشل میڈیا اور منظم پروپیگنڈے کے ذریعے ریاستی اداروں اور جمہوری نظام کے درمیان بداعتمادی پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جو کسی صورت قابل قبول نہیں۔

قرارداد میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ آزادانہ، شفاف، غیر جانبدارانہ اور پرامن انتخابات کے انعقاد کے لیے تمام ضروری انتظامی، قانونی اور سکیورٹی اقدامات یقینی بنائے جائیں گے تاکہ عوام بلاخوف و خطر اپنے حق رائے دہی کا استعمال کر سکیں۔

کانفرنس نے مہاجرین جموں و کشمیر کی تحریک آزادی کشمیر اور تحریک تکمیل پاکستان کے لیے دی جانے والی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ مہاجرین مقیم پاکستان کی نمائندگی ایک تاریخی اور آئینی حقیقت ہے۔ تاہم انتخابی نظام میں موجود بعض پیچیدگیوں کے حل اور سیاسی جماعتوں کے لیے قابل قبول اصلاحات آئین کے مطابق قانون ساز اسمبلی کے ذریعے لائی جا سکتی ہیں۔

اجلاس نے مزید قرار دیا کہ آئینی اصلاحات کا اختیار منتخب نمائندوں اور قانون ساز اسمبلی کے پاس ہے، تاہم اس سلسلے میں سیاسی جماعتوں، بار ایسوسی ایشنز، بار کونسل، سول سوسائٹی اور آئینی ماہرین کی مشاورت سے ایک وسیع البنیاد مشاورتی عمل شروع کیا جانا چاہیے تاکہ متفقہ اور دیرپا اصلاحات کو یقینی بنایا جا سکے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.