دلوں کو قرآن سے جوڑو ، معاشرہ بدل دو — حلقہ خواتین جماعت اسلامی کی قیادت میں دعوت قرآن “ہر دل تک قرآن” کی نئی لہر۔۔۔۔عید ملن کے بعد فہم القرآن کورسز کا آغاز
اسلام آباد(کشمیر ایکسپریس نیوش):ڈپٹی سیکرٹری و ڈائریکٹر میڈیا سیل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان، ثمینہ سعید نے کہا ہے کہ تاریخ گواہ ہے کہ ہر بڑی انقلابی تبدیلی ایک فرد سے شروع ہو کر ایک منظم تحریک کی شکل اختیار کرتی ہے۔ وہ مودودی انسٹیٹیوٹ میں منعقدہ عید ملن تقریب سے خطاب کر رہی تھیں۔
انہوں نے سیرتِ نبوی ﷺ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے ایک ایک فرد کو جوڑ کر ایک عظیم امت کی بنیاد رکھی۔ آج بھی ضرورت اس امر کی ہے کہ فرداً فرداً دعوت دے کر تحریک کو مضبوط کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ممبر سازی محض تعداد بڑھانے کا نام نہیں بلکہ یہ مستقبل کی باصلاحیت قیادت تیار کرنے کا عمل ہے۔
ثمینہ سعید نے دارِ ارقم کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ مضبوط اور دیرپا جماعتیں منظم تربیت کے نتیجے میں وجود میں آتی ہیں۔ جب لوگ اخلاص اور پختہ عزم کے ساتھ کسی تحریک سے جڑتے ہیں تو وہ تاریخ کا دھارا موڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
انہوں نے خواتین کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ابتدائی اسلامی تاریخ میں صحابیات نے گھروں سے دعوت کا آغاز کر کے نسلوں کی تربیت کی۔ آج کی خواتین بھی اسی جذبے کے ساتھ معاشرے میں مثبت اور دیرپا تبدیلی لا سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم صرف ممبر نہیں بنا رہے بلکہ دلوں کو جوڑ رہے ہیں، اور یہی حقیقی دعوت کا تقاضا ہے۔
حضرت مصعب بن عمیرؓ کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دعوت کا اصل ذریعہ طاقت نہیں بلکہ اخلاق، نرمی اور حکمت ہے۔ ایک کامیاب داعی لوگوں کو بدلنے نہیں بلکہ ان کے دل جیتنے کی کوشش کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ جدوجہد دراصل انسانوں کو جہنم سے جنت کی طرف بلانے کا عظیم مشن ہے، جو ہمیشہ باقی رہنے والا سرمایہ ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر ماسٹر ٹرینر پروگرام، انیلہ محمود نے کہا کہ رمضان المبارک قرآن سے تعلق مضبوط کرنے کا مہینہ ہے، اور اس مہم کے ذریعے لاکھوں خواتین تک قرآن کا پیغام پہنچایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دورۂ قرآن محض تلاوت نہیں بلکہ فہم، تدبر اور عملی زندگی میں قرآن کو نافذ کرنے کی دعوت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک بھر میں خواتین کی بڑی تعداد میں دورۂ قرآن میں شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ خواتین دین کے پیغام کو سمجھنے اور اسے آگے پہنچانے کے لیے پُرعزم ہیں۔ یہ مہم ایک فکری اور روحانی بیداری کی تحریک بن چکی ہے جو معاشرے کی اصلاح میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
نائب ناظمہ حلقہ لاہور شازیہ عبدالقادر نے کہا کہ رمضان کے بعد بھی قرآن سے تعلق کو برقرار رکھنا ضروری ہے اور اسے اپنی عملی زندگی کا حصہ بنانا ہی اصل کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک مخلص داعی سینکڑوں لوگوں کی زندگیاں بدل سکتا ہے، اور ایک فرد کو دین سے جوڑنا پوری نسل کی اصلاح کے مترادف ہے۔
انہوں نے شرکاء کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے رمضان المبارک کے دوران ہر حال میں قرآن کے پیغام کو عام کرنے کی ذمہ داری نبھائی۔ انہوں نے زور دیا کہ اخلاص، صبر اور استقامت کے ساتھ دعوتی کام کو جاری رکھا جائے تاکہ ہر دل تک قرآن کا پیغام پہنچایا جا سکے، کیونکہ یہی اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے افضل عمل ہے۔
