جماعت اسلامی نے پٹرولیم لیوی کو عدالت میں چیلنج کردیا

امیرجماعت اسلامی نے پٹرولیم لیوی کو وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کردیا بائیس مئی کو ملک گیر مظاہرے، دھرنے بھی ہوں گے، ہڑتال کا اعلان بھی کریں گے

اسلام آباد(کشمیر ایکسپریس نیوز) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے پٹرولیم لیوی اور حکومت کی جانب سے توانائی کے شعبہ میں عوام کے ساتھ کی جانے والی مجموعی ناانصافی اور بھاری ٹیکسوں کو وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کردیا تاہم انہوں نے اعلان کیا ہے کہ عدالتوں کا دراوازہ کھٹکھٹانے کے ساتھ ساتھ جماعت اسلامی عوامی احتجاج بھی جاری رکھے گی، بائیس مئی کو ملک گیر مظاہرے ہوں گے، عید کے بعد چاروں صوبوں میں ہڑتال کی جائے گی، لانگ مارچ اور سڑکوں کو جام کرنے کے آپشنز (Options) بھی موجود ہیں، حکمران عام آدمی پر ظلم بند، اپنی عیاشیاں کم کریں، عدالت سے انصاف کی توقع ہے۔ امیر جماعت اسلامی اسلام آباد نصراللہ رندھاوا،عمران شفیق ایڈووکیٹ اور سیکرٹری اطلاعات شکیل احمد ترابی کے ہمراہ آئینی عدالت کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پٹرولیم لیوی عوام سے سراسر زیادتی اور ظلم ہے، حکمران اس وقت ایک لیٹر پٹرول پر ایک سو سترہ روپے لیوی وصول کررہے ہیں، دیگر ٹیکسز شامل کرکے یہ رقم ڈیڑھ سو روپے تک پہنچ جاتی ہے جو پٹرول کی اصل قیمت کا ساٹھ فیصد کے قریب ہے، گزشتہ حکومتوں نے بھی لیوی وصول کی تاہم موجودہ فارم سنتالیس سے آئے ہوئے حکمرانوں نے تو تمام حدیں عبور کردیں، خطے میں موجودہ جنگ کی صورتحال میں بجائے اس کے کہ عوام کو پٹرول پر سبسڈی دی جائے حکومت نے عام آدمی کا خون نچوڑنا شروع کردیا، پٹرول کی فی لیٹر قیمت ڈھائی سو روپے بھی ہو تو حکومت کو کوئی نقصان نہیں۔ حکمران کہتے ہیں کہ آئی ایم ایف کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پٹرولیم لیوی لگا لیں تاہم یہ شاید بھول جاتے ہیں کہ آئی ایم ایف حکمران اشرافیہ کو اپنی عیاشیاں کم کرنے کا بھی کہتا ہے، مریم نواز نے گیارہ ارب کا جہاز خرید لیا، چیئرمین سینٹ نے نو کروڑ کی گاڑی لے لی، صدر زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف بیسیوں گاڑیوں کے قافلے میں سفر کرتے ہیں، حکمرانوں کو آئی ایم ایف کے احکامات صرف عوام پر بوجھ ڈالنے کے لیے یاد رہتے ہیں یہ خود اپنے اخراجات اور مراعات کم کیوں نہیں کرتے؟ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جاگیردار اس ملک میں ٹیکس نہیں دیتے، آئی پی پیز کو اب تک اٹھارہ سو ارب ناجائز معاہدوں کی صورت میں ادا کردیے گئے، آرایل این جی کی ری گیسیفکیشن (ReـGasification) کے ناجائز معاہدے کیے گئے، بجلی پر عوام بیسیوں قسم کا ٹیکس دیتے ہیں، حکومت نے موٹر سائیکل سواروں سے ہی لیوی کے ذریعے اربوں اکٹھے کرلیے، اگر حکمرانوں نے ان لوگوں سے ہی ٹیکس وصول کرنا ہے جو ٹیکس نیٹ (TaxـNet) میں آتے ہی نہیں تو ایف بی آر کا پچیس ہزار ملازمین پر مشتمل محمکہ کس لیے موجود ہے؟ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے دیگر اپوزیشن جماعتیں عوام کے حقوق کی بات نہیں کررہیں صرف جماعت اسلامی ہی عام آدمی کا مقدمہ لڑ رہی ہے۔ قبل ازیں امیر جماعتِ اسلامی نے ایڈووکیٹ عمران شفیق کے ذریعے پٹرولیم لیوی کے خلاف وفاقی آئینی عدالت میں درخواست دائر کی۔درخواست میں نئی متعارف کردہ”کلائمیٹ سپورٹ لیوی”(Climate Support Levy) کو بھی چیلنج کیا گیا ہے۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پٹرولیم لیوی آئینِ پاکستان، پارلیمانی بالادستی، وفاقی نظام، بنیادی حقوق اور قانون کی حکمرانی کے خلاف ہے، پیٹرولیم لیوی اب ایک محدود ریگولیٹری سرچارج (Regulatory Surcharge) نہیں رہی،پیٹرولیم لیوی وفاقی حکومت کے لیے سب سے بڑے آمدن کے ذریعے میں تبدیل ہو چکی،پیٹرولیم لیوی کو پارلیمنٹ کے بجائے مسلسل ایگزیکٹو نوٹیفکیشنز (Executive Notification) اور ایس آر اوز کے ذریعے چلایا جا رہا ہے. درخواست میں کہا گیا کہ پیٹرولیم لیوی ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح ہے، صرف پیٹرولیم لیوی ہی پیٹرول کی بنیادی ایکس ریفائنری (ExـRefinery) قیمت کا تقریباً 42 سے 43 فیصد بنتی ہے،لیوی کے علاوہ بھی مختلف ٹیکسز عوام سے وصول کیے جا رہے ہیں،وفاقی بجٹ کے اعداد و شمار بھی عدالت کے سامنے رکھے گئے ہیں،مالی سال 2025ـ26 میں صرف پیٹرولیم لیوی کی مد میں تقریباً 1.47 کھرب روپے وصول کیے جانے کا تخمینہ ہے،جو پورے وفاقی بجٹ کا تقریباً 8.3 فی صد بنتا ہے۔ درخواست میں کہا گیا کہ پیٹرولیم لیوی کی مد میں مجموعی وصولیاں اب تک تقریباً 6.3 کھرب روپے سے تجاوز کر چکیں، درخواست میں خاص طور پر فنانس ایکٹ (Finance Act 2025) کو چیلنج کیا گیا ہے،فنانس ایکٹ میں حکومت نے پیٹرولیم لیوی پر پہلے سے موجود قانونی حد ختم کر دی،ماضی میں پیٹرولیم لیوی کی حتمی مقدار ہر سال پارلیمان خود طے کرتی تھی،پارلیمنٹ نے ففتھ شیڈول (Fifth Schedule) ختم کر کے عملی طور پر حکومت کو کھلی اور غیر محدود مالیاتی طاقت دی،حکومت اس وصولی کو”لیوی”کا نام دیتی ہے،حقیقت میں پیٹرولیم لیوی، درخواست ٹیکس کی شکل اختیار کرچکی،یہ عوام سے جبری طور پر وصول کی جانے والی ایک عمومی ریونیو وصولی ہے،لیوی کے بدلے میں عوام کو کوئی مخصوص خدمت یا فائدہ فراہم نہیں کیا جاتا،ایک”ٹیکس” کو”پیٹرولیم لیوی”کا عنوان دے کر آئینی تقاضوں اور پابندیوں سے بچنے کی کوشش کی گئی،اس طریقہ کار کے نتیجے میں عوام پر بڑے پیمانے پر مالی بوجھ تو عائد کیا جا رہا ہے،یہ طرزِ عمل آئین کی روح، پارلیمانی مالیاتی خودمختاری اور صوبائی خودمختاری کے اصولوں سے متصادم ہے۔ درخواست میں کہاگیا کہ پیٹرولیم لیوی کی وصولی کا طریقہ کار بنیادی حقوق، وفاقی توازن اور آئینی مالیاتی نظم کیلئے بھی سنگین نتائج کا حامل ہے۔ درخواست میں نئی لگائی گئی ”کلائمیٹ سپورٹ لیوی” کو بھی چیلنج کرتے ہوئے بتایا گیا کہ حکومت نے ماحولیاتی تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی کے نام پر نئی لیوی تو نافذ کی، قانون میں کوئی کلائمیٹ فنڈ بنایا گیا نہ کوئی جوابدہی کا نظام رکھا گیا، کسی پارلیمانی نگرانی کا بندوبست کیا گیا اور نہ ہی یہ ضمانت دی گئی کہ یہ رقم واقعی ماحولیاتی مقاصد پر خرچ ہو گی۔ ماضی میں”پیٹرولیم ڈویلپمنٹ”اور دیگر متعلقہ مدات کے نام پر عوام سے کھربوں روپے وصول کیے گئے،ان رقوم کے استعمال، ترقیاتی مقاصد یا عوامی فائدے کے حوالے سے کوئی شفاف اور قابلِ احتساب نظام موجود نہیں،درخواست میں حکومت کی پالیسیوں کو متضاد بھی قرار دیا گیا ہے۔ درخواست میں استدعا کی گئی کہ وفاقی آئینی عدالت عوام کو معاشی استحصال کے اس مسلسل نظام سے نجات دلانے کے لیے اپنا آئینی اختیار استعمال کرے،پیٹرولیم لیوی پر پارلیمانی نگرانی اور قانونی حدیں بحال کی جائیں،فنانس ایکٹ 2025 کی دفعہ 3 اور اس کے تحت غیر محدود ایگزیکٹو اختیارات کو آئین سے متصادم قرار دیا جائے،پیٹرولیم لیوی کو” ٹیکس”قرار دیتے ہوئے آئین سے متصادم ہونے کی بنا پر کالعدم قرار دیا جائے،حکومت کو وصول شدہ لیوی کے استعمال اور مصرف کی تفصیلات عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا جائے،ایگزیکٹو کو نوٹیفکیشنز اور ایس آر اوز کے ذریعے عوام پر غیر محدود مالیاتی بوجھ عائد کرنے سے روکا جائے،وفاقی آئینی عدالت بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے اپنے عدالتی نظرِ ثانی کے اختیار کو بروئے کار لائے

Leave A Reply

Your email address will not be published.