صدارتی الیکشن میں تاخیر ناقابل قبول، آئین شکنی اور جمہوریت پر حملہ ہے: سردار عبدالقیوم نیازی
اسلام آباد (کشمیر ایکسپریس نیوز)سابق وزیراعظم آزاد کشمیر و صدر پاکستان تحریک انصاف آزاد کشمیر سردار عبدالقیوم نیازی نے صدارتی الیکشن کے انعقاد میں مسلسل تاخیر پر گہری تشویش اور شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے آئین و قانون کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ صدارتی انتخاب نہ کروانا نہ صرف آئینی تقاضوں کی پامالی ہے بلکہ یہ جمہوری نظام کو دانستہ طور پر کمزور کرنے کے مترادف ہے۔
سردار عبدالقیوم نیازی نے کہا کہ ایک آئینی ریاست کو اس کے سربراہ سے محروم رکھنا کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں۔سردار عبدالقیوم نیازی نے کہا کہ آزاد کشمیر میں ہائبرڈ نظام مسلط کرنے کی کوششیں جاری ہیں جو کہ آئینی و جمہوری ڈھانچے کے خلاف ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ریاست کو صرف اور صرف آئین و قانون کے مطابق چلایا جانا چاہیےنہ کہ غیر آئینی طریقوں اور پس پردہ قوتوں کے ذریعے۔
انہوں نے کہا کہ صدارتی عہدہ محض ایک علامتی حیثیت نہیں بلکہ ریاستی نظام کا ایک اہم آئینی ستون ہےجس کی عدم موجودگی سے ادارہ جاتی توازن متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال آئینی بحران کو جنم دے رہی ہے جس کے اثرات ریاستی نظام پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر صدارتی الیکشن کا انعقاد یقینی بنایا جائے اور آئینی تقاضوں کو پورا کیا جائے تاکہ ریاست میں جمہوری عمل کی بحالی ممکن ہو سکے۔
سردار عبدالقیوم نیازی نے خبردار کیا کہ اگر آئین کی مسلسل خلاف ورزی جاری رہی تو یہ نہ صرف جمہوریت بلکہ ریاستی استحکام کے لیے بھی خطرناک ثابت ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کی توہین اور آئین سے انحراف کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور اس کے خلاف ہر سطح پر آواز بلند کی جائے گی۔
