کاکروچ جنتا پارٹی،بھارتی جج کا حزبِ اختلاف پر طنز
کاکروچ جنتا پارٹی‘؛ بھارتی جج کا حزبِ اختلاف پر طنز، ملک بھر میں عدلیہ کے کردار پر شدید تنقید
نئی دہلی (کشمیر ایکسپریس نیوز) بھارت کے ایک اعلیٰ ترین جج کی جانب سے دائرہ عدالت میں دیا گیا ایک متنازع بیان اس وقت ملک میں ایک بڑے سیاسی بحران، شدید احتجاج اور سوشل میڈیا پر طنز و مزاح (Satire) کا سبب بن گیا ہے
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، سپریم کورٹ کے سینیئر جج نے مودی حکومت کی مخالف سیاسی جماعتوں کے اتحاد کو مبینہ طور پر “کاکروچ جنتا پارٹی” (Cockroach Janata Party) کہہ کر پکارا، جس کے بعد پورے ملک میں عدلیہ کی غیر جانبداری پر سوالات اٹھ رہے ہیں
رپورٹ کے مطابق، سپریم کورٹ میں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے دائر کردہ ایک اہم کیس کی سماعت کے دوران جج صاحب نے ریمارکس دیتے ہوئے یہ سخت اور نازیبا لفظ استعمال کیا。 اس بیان کو بھارتی اپوزیشن نے جمہوریت اور آئینی اداروں کی توہین قرار دیا ہے
اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ تبصرہ ثابت کرتا ہے کہ بھارتی عدلیہ کا ایک بڑا حصہ اب مکمل طور پر وزیر اعظم نریندر مودی کی بی جے پی حکومت کے زیرِ اثر آ چکا ہے اور وہ اپوزیشن کو کچلنے کی حکومتی مہم کا حصہ بن رہا ہے
اس بیان کے خلاف نئی دہلی میں وکلاء، طلباء اور سیاسی کارکنوں نے شدید احتجاج شروع کر دیا ہے。 ایک انوکھے احتجاج کے دوران مظاہرین نے سپریم کورٹ آف انڈیا کی عمارت کے باہر پلاسٹک کے بڑے بڑے کاکروچ (کاکروچز کے ماڈلز) رکھ دیے اور عدلیہ کے خلاف نعرے بازی کی.
مظاہرین کا کہنا تھا کہ اگر ججوں کی زبان ایسی ہوگی تو عوام کا انصاف سے اعتماد اٹھ جائے گا۔ جج کے اس تبصرے نے انٹرنیٹ پر طنز و مزاح کے ایک نئے سلسلے کو جنم دے دیا ہے。 ایکس (ٹویٹر) اور انسٹاگرام پر لاکھوں بھارتی صارفین نے جج کے خلاف طنزیہ میمز شیئر کرنا شروع کر دیے ہیں
جہاں ججوں کو مودی حکومت کے سامنے گھٹنے ٹیکتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ بہت سے ناقدین نے اس تبصرے کا موازنہ ماضی کی ان فاشسٹ حکومتوں سے کیا جو اپنے سیاسی مخالفین کو کیڑے مکوڑے کہہ کر پکارتی تھیں تاکہ ان کے خلاف عوامی نفرت ابھاری جا سکے
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ واقعہ مودی کے دورِ حکومت میں بھارتی اداروں، خصوصاً سپریم کورٹ کی ساکھ کو پہنچنے والے نقصانات کی ایک اور کڑی ہے。 الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ بین الاقوامی قانونی ماہرین بھی بھارتی سپریم کورٹ کے اس رویے پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں، کیونکہ جج کا یہ رویہ ایک آزاد اور منصفانہ عدلیہ کے بنیادی اصولوں کے بالکل منافی ہے。
