کشمیری ہم سے بڑے پاکستانی،کوئی طاقت جدانہیں کرسکتی،سعدرفیق

لاہور(کشمیر ایکسپریس نیوز)مسلم لیگ( ن) کے مرکزی رہنما ،سابق وفاقی وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ کشمیری ہم سے بڑے پاکستانی ہیں،کوئی طاقت ہمیں ایک دوسرے سے جدا نہیں کر سکتی،

آزاد کشمیر تحریک آزادئِ کشمیر کا بیس کیمپ ہے ،پر امن مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال غلط ہے اسی طرح فورسز پر مسلح مظاہرین کے پرتشدد حملے ناقابل قبول ہیں،

میں عوامی ایکشن کمیٹی کی اکثریت کی حب الوطنی پر کوئی شک نہیں لیکن خود مختار کشمیر کے حامیوں کو پچھلی آٹھ دہائیوں میں ایسا موقع پہلی بار ملا ہے جب وہ JAAC کے کندھوں پر سوار ہو کر ہزاروں کشمیریوں کے قاتل اور کشمیری خواتین کی عزتوں کا کھلواڑ کرنے والے ہندوستان اور کشمیریوں کی آزادی کیلئے لڑنے والے پاکستان کو ایک صف میں کھڑا کرنا چاہتے ہیں ،

ریاست اور کشمیری عوام کو لڑا کر دشمن کاکام آسان نہ کیا جاۓ،معا ہدہ کراچی سے پیچھے ہٹنا کشمیریوں اور پاکستانیوں کے رشتے کو کمزور کرنے کا کھیل ہو گا،مہاجرین جموں و کشمیر کی نمائیندگی ختم کرنے کا مطالبہ غیر منطقی اور کشمیر کاز کو شدید نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔

اپنے بیان میں سعد رفیق نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر کی حساسیت کی بنیاد مقبوضہ کشمیر کے باسیوں پر آٹھ دہائیوں سے جاری بھارتی مظالم اور کشمیریوں کی حتمی آزادی ہے۔ کشمیری ہم سے بڑے پاکستانی ہیں،کوئی طاقت ہمیں ایک دوسرے سے جدا کر سکتی ہے نہ آزاد کشمیر کو مقبوضہ کشمیر سے جدا کیا جاسکتاہے ،

آزاد کشمیر تحریک آزادئِ کشمیر کا بیس کیمپ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کی آزادی اور کشمیریوں کو حق راۓ دہی دیا جانا دونوں ایٹمی طاقتوں کے مابین سب سے بڑی وجہ تنازعہ ہے جس پر تین جنگیں ہو چکی ہیں،

کشمیریوں کی آزادی کیلئے افواج پاکستان اور اہل ِ پاکستان نے اپنا خون بہایاہے،اسی طرح اے جے کے کے باشندوں نے دفاع پاکستان کیلئے گرانقدر خدمات سر انجام دی ہیں،پاکستانی فورسز مقبوضہ کشمیر پر قابض بھارتی فورسز کے سامنے بند باندھے نہ کھڑی ہوتیں تو آزاد جموں وکشمیر کو بھارتی جارحیت سے بچانا کسی طور ممکن تھا نہ ہے ۔

انہوں نے کہا کہ مہنگائی ،کرپشن ،بیروزگاری،ڈویلپمنٹ فنڈر کی قلت اور سماجی ناانصافی صرف اے جے کے نہیں پورے ملک میں ہر علاقے کا مسئلہ ہیں،حکومت پاکستان تنگئی ِ داماں کے باوجود ہر برس قومی خزانے سے کىئ سو ارب روپے اے جے کے کی تعمیر وترقی کیلئے خرچ کرتی ہے ۔

سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر کی حکومتوں کی بیڈ گورننس،کرپشن،حکومتوں کی بے جا اکھاڑ پچھاڑ ،مظر آباد کی حکومت پر اپنے پیادے مسلط کرنے کی کوشیشوں اور پاکستان کی وفاقی سیاسی جماعتوں کی غیر سنجیدگی نے آزاد کشمیر میں سیاسی خلا پیدا کیا جس کا نتیجہ آج سامنے آ رہا ہے لیکن اسے بنیاد بنا کر مہاجرین جموں و کشمیر کی نمائیندگی ختم کرنے کا مطالبہ غیر منطقی اور کشمیر کاز کو شدید نقصان پہنچانے کے مترادف ہے ۔

سوال یہ بھی ھے کہ جموں و کشمیر سے مہاجر ہو کر دہا ئیوں سے پاکستان کے طول و عرض میں بسنے والے مہاجرین اے جے کے میں کس ایڈریس پر اپنا ووٹ درج کروا سکتے ہیں ؟

اسی طرح معا ہدہ کراچی سے پیچھے ہٹنا کشمیریوں اور پاکستانیوں کے رشتے کو کمزور کرنے کا کھیل ہو گا،آسان حل یہ ہے کہ آزاد کشمیر اسمبلی کی آزاد کشمیر میں موجود نشستوں کی تعداد بڑھا دی جاۓ یا اے جے کے کی حدود سے باہر موجود نشستوں کو کشمیریوں کی اندرون کشمیر اور بیرون کشمیر آبادی کے تناسب سے طے کر لیا جاۓ۔

انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر کے آئین کی روشنی میں عوامی ایکشن کمیٹی انتخابات میں حصہ لے کر اپنی مقبولیت پارلیمانی طاقت میں کیوں نہیں بدلتی ؟،

اسمبلی میں اکثریت حاصل کریں اور قانون بدل لیں،اگر اتنی سٹریٹ پاور موجود ہے تو کوئی دھاندلی کی جرات نہیں کر سکتا ،آخر کِن عناصر کو اے جے کے کے آئین کی کس شِق کے تحت الیکشن لڑنے پر اعتراض ھے ؟۔

سعد رفیق نے کہا کہ پر امن مظاہرین کیخلاف طاقت کا استعمال غلط ہے اسی طرح فورسز پر مسلح مظاہرین کے پرتشدد حملے ناقابل قبول ہیں،مظاہرین یا سیکیورٹی اہلکاروں میں سے جو لوگ جان کی بازی ہارے واپس نہیں آسکتے ،

درجنوں زخمی ہیں ،اس کی کیا ضرورت تھی ؟ لوگوں کے جان و مال کو پاپولسٹ سیاست کی نذر نہیں ہونا چاہیے ،اپنے جائز مطالبات منوانے کیلئے مظفر آباد پر دھاوا بولنے کی کوئی معقول وجہ نہیں تھی،اپنے اپنے شھروں میں بیٹھ کر بھی احتجاج ریکارڈ کروایا جا سکتا تھا ۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں عوامی ایکشن کمیٹی کی اکثریت کی حب الوطنی پر کوئی شک نہیں لیکن خود مختار کشمیر کے حامیوں کو پچھلی آٹھ دہائیوں میں ایسا موقع پہلی بار ملا ہے جب وہ JAAC کے کندھوں پر سوار ہو کر ہزاروں کشمیریوں کے قاتل اور کشمیری خواتین کی عزتوں کا کھلواڑ کرنے والے ہندوستان اور کشمیریوں کی آزادی کیلئے لڑنے والے پاکستان کو ایک صف میں کھڑا کرنا چاہتے ہیں

ریاست اور کشمیری عوام کو لڑا کر دشمن کاکام آسان نہ کیا جاۓ ،آپ پاکستان کی سیاسی قیادت پر تنقید کریں ،سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت پر اعتراض کریں ، آپ شفاف انتخابات کا مطالبہ کریں ،آپ عوامی حقوق کیلئے احتجاج کریں لیکن نظریۂِ پاکستان کی بنیاد منہدم کرنےیا تحریک ِ آزادی کشمیر کا مقدمہ خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

انہوں نے کہا کہ ہم کشمیری پاکستان کے طول و عرض میں دہائیوں سے آباد ہیں ،ہمیں کبھی پنجابی ،سندھی ،بلوچ پشتون،اردو بولنے والے یا سرائیکی بولنے والے بھائیوں بہنوں سے لسانی یا نسلی بنیاد پر کوئی شکایت پیدا نہیں ہوئی،

اہل پاکستان نے ہمیں ہجرت کے بعد دل و جان سے قبول کیا اور ہم نے وطن عزیز میں اہل ترین پوزیشنز حاصل کیں،آزاد کشمیر کے باشندے پورےملک میں آباد ہیں،کاروبار اور ملازمتیں کرتے ہیں ،تعلیم حاصل کرتے ہیں ،مقامی یا مہاجر کا کوئی سوال کبھی نہیں اٹھایا گیا ،

عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت ٹھنڈے دل سے حالات کا ادراک کرے، عوامی حقوق کی تحریک کا رخ تشدد اورکشمیر کاز کو کمزور کرنے کی طرف نہ موڑا جاۓ ۔ سعد رفیق نے کہا کہ ہمیں اچھے سے معلوم ہے کہ اس تحریر کے بعد گالیوں کا ایک طوفان امڈے گا کہ پاپولسٹ سیاست اور فاشزم میں زیادہ فرق نہیں ہوتا لیکن ہم جسے درست سمجھیں گے ڈنکے کی چوٹ پر کہتے رہیں گے ،

آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت اور پاکستان کی سیاسی جماعتوں سے سے گزارش ہے کہ وہ گہری نیند سے بیدارہوں اور اپنا بیانیہ سامنے لائیں،ریاستی اداروں سے گزارش ہے کہ اے جے کے اسمبلی کے انتخابات میں تمام جماعتوں کو بلا تخصیص حصہ لینے دیا جاۓ تاکہ اے جے کے میں ایک نمائیندہ حکومت کا قیام عمل میں آسکے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.